بسم اللہ الرحمن الرحیم
درس نمبر 23

الحمدللہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین أما بعد:

گناہوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں، گناہ صغیرہ، گناہ کبیرہ
گناہ کبیرہ میں بھی کئی درجات ہیں، جن میں سب سے بڑا گناہ اللہ رب العالمین کے ساتھ شرک کرنا ہے جو کہ عظیم ترین ظلم ہے، اللہ رب العالمین فرماتا ہے: {وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ} [لقمان : 13]
اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے
ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ “. ثَلَاثًا، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : ” الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ کیا میں تمہیں بڑے گناہوں میں سے بھی سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ یہ بات تین مرتبہ آپ نے کہی، صحابہ کرام نے کہا کیوں نہیں اللہ کے رسول!! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا
ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ “. قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : ” الشِّرْكُ بِاللَّهِ، متفق علیہ سات مہلک ترین چیزوں سے دور رہو لوگوں نے کہا اللہ کے رسول! وہ سات مہلک چیزیں کیا ہیں؟ چنانچہ اپ نے سب سے پہلے اللہ رب العالمین کے ساتھ شرک کرنے کو بیان کیا. حدیث میں موبقات سے مراد وہ گناہ ہیں جو ہلاک کرنے والے ہیں۔
اس شرک کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم شرک اکبر یعنی غیر اللہ کو ان چیزوں میں اللہ تعالی کے برابر قرار دے دینا جو اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہیں جیسا کہ اللہ رب العالمین نے مشرکوں کے بارے میں بتلایا کہ وہ اپنے معبودوں کو قیامت کے دن مخاطب کرکے کہیں گے: {تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ} [الشعراء : 97، 98] کہ اللہ کی قسم ہم تو صریح گمراہی میں تھے جب کہ تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔
یہ شرک انسان کو ملت اسلام سے خارج کر دیتا ہے مثلا انسان عقیدہ رکھتا ہے کہ اولیاء اور صالحین غیب کو جانتے ہیں جب کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: {قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ} [النمل : 65]
کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے۔
شرک اکبر کی ایک مثال یوں سمجھیں کہ اولیاء و صالحین میں سے مردہ لوگوں یا غیر موجود و غائب لوگوں سے استغاثہ اور مدد طلب کرنا ہے۔ اسی شرک میں یعنی شرک اکبر میں لوگوں کا یہ کہنا بھی داخل ہے مدد یا رسول اللہ مدد یا حسین وغیرہ اسی طرح سے کسی اور کی تقرب کے لیے ذبیحہ پیش کرنا یا نذر ماننا اس امید کے ساتھ یا یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ یہ لوگ ہمیں اللہ تعالی سے قریب کر دیں گے یا اللہ تعالی کے پاس ہماری سفارش کر دیں گے۔
یہی وہ دونوں حجتیں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہلے کے مشرکین بطور حجت پیش کیا کرتے تھے بلکہ آپ کے زمانے سے پہلے بھی اور ہمارے آج کے دور میں بھی اہل شرک یہی حجت پیش کیا کرتے ہیں جب کہ اللہ رب العالمین نے ان کا یہ قول قرآن مجید میں پیش کیا اور اسے باطل قرار دیا، اللہ رب العالمین نے فرمایا: {أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ} [الزمر : 3]
دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا۔
اور ایک جگہ فرماتا ہے: {وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ} [يونس : 18]
اور یہ (لوگ) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم اللہ  کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔ یاد رہے وہ مشرکین جنہوں نے یہ دونوں حجتیں اور یہ دونوں دلیلیں پیش کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ عذر قبول نہیں کیا بلکہ ان کے اوپر شرک و کفر کا حکم لگایا اور ان سے قتال کیا۔
شرک کی دوسری قسم: شرک اصغر ہے اور یہ وہ شرک ہے جسے قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں شرک قرار دیا گیا ہے مگر وہ شرک اکبر کے درجے تک نہیں پہنچتا۔
شرک اصغر کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ شرک اصغر ہر وہ وسیلہ اور ہر وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعہ شرک اکبر تک پہنچا جا سکے خواہ وہ ارادہ ہو اقوال ہوں یا افعال ہوں جو کہ عبادت کے درجے تک نہ پہنچتے ہوں اور یہ شرک اصغر زنا اور چوری سے بھی عظیم گناہ ہے ان دونوں کے علاوہ اور دیگر تمام کبیرہ گناہوں سے بڑا گناہ ہے جو شرک سے کمتر ہوتے ہیں لیکن انسان اس شرک اصغر سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ لوگوں میں اس کی بہت ساری شکلیں رائج اور منتشر ہیں مثال کے طور پر غیر اللہ کی قسم کھانا جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانا امانت کی قسم کھانا کعبہ کی قسم کھانا یا ماں باپ جیسے اولیاء کی قسم کھانا وغیرہ جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو غیر اللہ کی قسم کھائے تو اس نے کفر یا شرک کیا
شرک اصغر کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان اس بات کا عقیدہ رکھے کہ ستاروں یا نچھتروں کی وجہ سے بارش ہوتی ہے ابومالک اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ۔۔۔
میری امت کے اندر جاہلیت کی چار چیزیں پائی جائیں گی یہ اسے کبھی نہ چھوڑیں گے اور آپ نے ان چار چیزوں میں سے ایک کے بارے میں فرمایا ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا۔
بنابریں جو شخص اس بات کا عقیدہ رکھے کہ ستارے مستقلا اللہ تعالی کی اجازت کے بغیر بارش نازل کرتے ہیں تو یہ شرک اکبر ہے جس سے انسان دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے
شرک اصغر کی ایک صورت یہ بھی ہے تعویذ لٹکانا جسے حدیث میں تمیمہ کہا جاتا ہے یہ تمیمہ ہر وہ چیز ہے جسے پہنا جائے یا لٹکایا جائے موہوم چیزوں سے بچنے بلا اور مصیبت کو دور کرنے کی نیت سے یا مصیبت پہنچنے کے بعد اسے ختم کرنے کی نیت سے پڑھا جائے یا لٹکایا جائے جیسے کچھ چیزیں گھروں پر لٹکا دی جاتی ہیں بچوں کو پہنا دی جاتی ہیں گاڑیوں پہ لٹکا دی جاتی ہیں جانوروں پہ لٹکا دی جاتی ہیں چاہے وہ دھاگے ہوں گھونگے ہوں یا کسی شیطان وغیرہ کی تصویر ہو یا گھوڑے کے نعل ہوں وغیرہ عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ رواہ أحمد
جو تعویذ لٹکائے تو اس نے شرک کیا
شرک اصغر کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ انسان ریاکاری کرے اور اس سے مراد ہے کہ بندہ کوئی بھی نیک عمل اس نیت سے کرے کہ لوگ اسے دیکھیں اور اس کی تعریف کریں محمود بن لبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ “. قَالُوا : وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ” الرِّيَاءُ رواہ أحمد
سب سے بڑی چیز جس سے میں تمہارے بارے میں خوف کھاتا ہوں شرک اصغر ہے لوگوں نے کہا کہ اللہ کے رسول شرک اصغر کیا ہے آپ نے فرمایا: ریاکاری
ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں شرک اکبر اور شرک اصغر دونوں سے محفوظ رکھے ظاہری شرک سے بھی محفوظ رکھے اور باطنی شرک سے بھی محفوظ رکھے و صلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین