اعتکاف ، شب قدر اور صدقۃ الفطر کے احکام ومسائل
ابوعبدالبر عبدالحي السلفی
اَلحَمْدُ لله رب العالمين والصَّلَاةُ والسَّلاَمُ عَلَی اَشْرَفِ الاَنْبِيَاءِ وَاْلُمرْسَلِيْنَ سَيِّدِنَا محمد وَعَلَی اَلِهِ وَصَحْبِهِ اَجْمَعِيْنَ:
محترم بھائیو !
اس مضمون میں اعتکاف،شب قدر اور صدقۃ الفطر کے احکام و مسائل بیان کئے گئے ہیں کیونکہ یہ تینوں اہم عبادات رمضان کے آخری عشرہ میں جمع ہوجاتی ہیں ۔
اولا: اعتکاف کے مسائل
اعتکاف کے ضروری مسائل سمجھ لینا بہت  اہم ہے ۔رمضان کی ایک عبادت اعتکاف ہے۔نبی اکرم ﷺ اس کاخصوصی اہتمام  فرماتے تھے۔
اعتکاف کےمعنی ہیں ” کسی چیز کا لزوم اور اپنے آپ کو اس کےلئے  روکےرکھنا ،، حافظ  ابن حجر عسقلانی،علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہما اللہ کا قول ہے:الاعتكاف لغة:لزوم الشىء وحبس النفس عليه وشرعا:المقام فى المسجد من شخص مخصوص على صفة مخصوصة ۔
اعتکاف کا لغوی  معنی  کسی شے کو لازم کرلینا اور اس پر اپنے آپ کو روک لینا ،شریعت کی اصطلاح میں مخصوص شخص کا مخصوص حالت پر مسجد میں قیام کرنا اعتکاف کہلاتا ہے۔”
اس عبادت میں انسان صحیح معنوں میں بندوں سے کٹ کر مسجد  میں یکسو ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائے ۔ چنانچہ وہ اس گوشئہ خلوت میں بیٹھ کر تو بہ واستغفار کرتا ہے۔ نوافل پڑھتا ہے۔ ذکر و تلاوت کرتا ہے۔ دعا والتجا کرتا ہے اور یہ سارے ہی کام عبادات ہیں۔ اس اعتبار سے اعتکاف گویا مجموعہ عبادات ہے۔
نبی کریم ﷺ اتنی پابندی سے اعتکاف فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ آپ اعتکاف نہ بیٹھ سکے،تو  شوال کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا:(صحیح بخاری) ۔اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے رمضان میں دس دن کی بجائے 20 دن اعتکاف فرمایا۔(صحيح البخاري الاعتكاف،باب الاعتكاف في العشر الأوسط من رمضان)
حالت اعتکاف میں کئے جانے والے بعض کام:
معتکف کے لئے عبادات کے کام،مثلاًنفلی نمازیں،مسنون دعائیں، تسبیح، تکبیر، تہلیل، تمحید، استغفار،تلاوت قرآن،صلوۃ وسلام اور دعاء وغیرہ مستحب اعمال ہیں۔ علامہ محمد بن صالح عثیمین  رحمہ  اللہ فرماتے ہیں:”اعتکاف اس مقصد کے لئے ہونا چاہیے جس کے لئے  اسے مشروع قرار دیا گیا ہے ۔وہ مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے مسجد میں قیام کی اس طرح پابندی کرے کہ خود کو دنیاوی اعمال سے اللہ  تعالی کی اطاعت کے لئے  فارغ کرلے اور تمام دنیاوی امور سے دوری اختیاری کرتے ہوئے نماز وذکر وغیرہ جیسی اطاعت کی اقسام کا ہی اہتمام کرے”۔
مسجد کی حفاظت سے متعلق بعض گزارشات:۔
مسجد میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو لانے کے  جواز پر متعدد صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں لیکن ان کے وہاں جمع ہونے،شوروغل مچانے اور نمازیوں یا دوسرے معتکف حضرات کےلئے  خلل اور تشویش کا باعث بننے پر   امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نہایت واضح الفاظ میں تحریر فرمایا ہے کہ : ” مسجد کو ہر اس چیز سے محفوظ رکھا جائے جو اس کے لئے اور اس میں نماز پڑھنے والوں کے لئے اذیت کاباعث بنے ،خواہ وہ مسجد میں چھوٹے بچوں کا آواز بلندکرنا ہویاوہاں ان کی چیخ وپکار یا اسی طرح کی کوئی اور چیز ہی ہو،بالخصوص جبکہ نماز کا وقت ہو کیونکہ یہ چیز عظیم تر منکرات میں سے ہے”۔(مجموع الفتاویٰ ج22 ص204)
ایک اور مقام پر مزید فرماتے ہیں:”کسی کے لئے اہل مسجد میں سے کسی کو اذیت پہنچانا جائز نہیں ہے،خواہ وہ نمازی ہو یا تلاوت کرنے والے یا ذکر دعا یا ایسے کاموں میں مشغول لوگ کہ جن کے لئے مساجد کو بنایا جاتا ہے۔ لہذا کوئی بھی شخص ایسا کوئی کام نہ کرے جو ان لوگوں کے لئے  باعث خلل وتشویش ہو ،نہ مسجد کے اندر،نہ مسجد کے دروازہ پر اور نہ ہی مسجد کے آس پاس،ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے  مروی ہے،فرماتے ہیں:اعتكف رسولُ اللهِﷺفي المسجد، فسمعَهم يجهرون بالقراءة، وهو في قُبَّةٍ له،فكشف السِّترَ وقال:ألا إنَّ كلَّكم مُناجٍ ربَّه،فلا يُؤذِينَّ بعضُكم بعضًا، ولا يرفعَنَّ بعضُكم على بعضٍ بالقراءةِ.أو قال:في الصلاةِ ۔(سنن أبي داود:1332)
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے مسجد میں اعتکاف فرمایا، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا”لوگو! سنو، تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں ،یا کہا نمازمیں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے“۔
لہذا جو  شخص بھی کوئی ایسی  حرکت کرے جس سے اہل مسجد کو خلل یا  تشویش ہو تو اسے اس چیز سے منع کیاجائے گا۔
اعتکاف کے ضروری مسائل
 اس کا آغاز 20 رمضان المبارک کی شام سے ہوتا ہے۔
 معتکف (اعتکاف کرنے والا )مغرب سے پہلے مسجد میں آجائے ۔
 بلا ضرورت مسجد سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔البتہ کسی ناگزیر اورسخت حاجت و ضرورت کے لئے مسجد سے باہر نکل سکتا ہے   ۔
 بیمار کی مزاج پرسی،جنازے میں شرکت اور اس قسم کے دیگر رفاہی اور معاشرتی امور میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔
 بیوی خاوند کے بالوں میں کنگھی وغیرہ کر سکتی ہے۔
 خاوند بھی اسے چھوڑنے کے لئے  گھر تک جاسکتا ہے، اسی طرح اگر مسجد میں کوئی انتظام نہ ہو اور گھر بھی قریب ہو تو اپنی ضروریات زندگی لینے کے لئے گھر جا سکتا ہے۔
 اعتکاف جامع مسجد میں کیا جائے ۔
 عورتیں بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں، لیکن ان کے لئے  اعتکاف بیٹھنے کی جگہ مساجد ہی ہیں نہ کہ گھر ۔
 شوال کا چاندنظر آتے ہی یا رمضان کےتیس دن پورے ہونے کے بعد  نماز مغرب   پڑھ کر معتکف کو اپنا اعتکاف ختم کردینا چاہیے
ثانیا:شب قدر کے احکام ومسائل
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے  کچھ ایسے اوقات اور زمانے مخصوص فرمادیئے ہیں جن میں نیک عمل کرکے وہ تھوڑے وقت میں زیادہ اجروثواب کے مستحق بن سکتے ہیں۔ ایسے تمام فضیلت والے وقتوں میں شب قدر ہے۔
سورةدخان میں اس رات کو ’’لیلۃ مبارکۃ‘‘اور سورہ قدر میں ’’لیلۃ القدر سے موسوم کیا گیا ہے ‘ارشادِ ربانی ہے:{إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ فِى لَيْلَةٍۢ مُّبَٰرَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ} (دخان:3) ’’ہم نے اسے ایک بڑی خیر وبرکت والی رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ‘‘
شب ِ قدر کی فضیلت کی تفصیل میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: {إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ  (1)وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ  (2)لَيۡلَةُ ٱلۡقَدۡرِ خَيۡر مِّنۡ أَلۡفِ شَهۡرٖ (3)  تَنَزَّلُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمۡرٖ  (4) سَلَٰمٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطۡلَعِ ٱلۡفَجۡرِ (5)} (القدر)’’ہم نے اس (قرآن) کو شب ِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شب ِ قدر کیا ہے؟ شب ِ قدر ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے اجازت  سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک‘‘
رسول اکرم  ﷺ نے فرمایا’’لیلۃ القدر میں زمین پر کنکر سے زیادہ تعداد میں فرشتے نازل ہوتے ہیں۔(صحیح الجامع:5473)
انس رضی اللّٰه عنہ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ هذا الشهرَ قدْ حضَرَكُمْ، وَفيهِ ليلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شهْرٍ، مَنْ حُرِمَها فَقَدْ حُرِمَ الخيرَ كُلَّهُ، ولَا يُحْرَمُ خيرَها إلَّا محرومٌ.
(سنن ابن ماجه’کتاب الصیام’صحيح الجامع الصغير:2247)
یہ جو ماہ تم پر آیا ہے اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی خیر وبھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو۔
ليلة القدر کی فضیلت یہ ہے کہ ایک رات ہزار مہینوں  کی عبادت سے بہتر ہے یہ  رمضان کے آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے۔  نبی کریمﷺ  نے اس کی فضیلت میں بیان فرمایا ہے: ’’جس نے شب ِ قدرمیں ایمان اوراجر و ثواب کی نیت سے عبادت اور قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے گئے۔
(صحيح البخاری، فضل ليلة القدر، باب فضل ليلة القدر)
اللہ کے رسولﷺ نے اس رات کو رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تلاش کرنے کی ہدایت فرمائی ہے:إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ،وَإِنِّي نَسِيتُهَا أَوْ أُنْسِيتُهَا) فَالْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرِ»(صحيح مسلم،الصيام)
مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی تھی، لیکن (اب) اسے بھول گیا یا مجھے بھلا دیا گیا ، پس تم اسےرمضان کے آخری دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
عائشہؓ سے مروی روایت میں مزید بتایا گیا ہے کہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں
اسےتلاش کیا جائے۔‘‘تَحَرَّوْا لَيْلَةَ القَدْرِ في الوِتْرِ مِنَ العَشْرِ الأوَاخِرِ مِن رَمَضَانَ. (بخاری’ مسلم)
آخری عشرے میں نبی ﷺ کا معمول :
یہ بات واضح ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں ہی اعتکاف کیا جاتا ہے اور اسی عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات لیلۃ القدر ہے جس کی تلاش و جستجو میں ان راتوں کو قیام کرنے اور ذکر و عبادت میں رات گزارنے کی تاکید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم  ﷺ اس عشرہ اخیر میں عبادت کے لیے خود بھی کمر کس لیتے اور اپنے گھر والوں کو بھی حکم دیتے،عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: كَانَ رَسُولُ اللهِﷺإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ، أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ،وَجَدَّ،وَشَدَّ الْمِئْزَرَ»(مسلم، الاعتكاف، باب الاجتهاد في العشر الأواخر من شهر رمضان)
رسول اللہ  ﷺ کا معمول تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ رات کابیشتر حصہ جاگ کر گزارتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے اور (عبادت میں )خوب محنت کرتے اور کمر کس لیتے ۔
ایک دوسری روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں«كَانَ رَسُولُ اللَّهِﷺ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ،مَا لَايَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ (صحيح مسلم،الاعتكاف،باب الاجتهاد في العشر الأواخر من شهر رمضان)
رسول الله ﷺ آخری عشرے میں  عبادت میں جتنی محنت کرتے تھے اور دنوں میں اتنی محنت نہیں کرتے تھے ۔
شب قدر کو مخفی رکھنے کی حکمت
لیلۃ القدر کو مخفی رکھنے اور کتاب وسنت میں اس کی تعیین نہ کرنے کی حکمت یہ ہے
کہ مسلمان پورے عشرے کو نماز تہجد ،تلاوت قرآن اور احسان واخلاص کے ذریعے اللہ کی اطاعت میں گزاریں -اس سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ بھلائیوں کی طلب و تلاش میں کون  دل چستی دکھاتا ہے۔ کوشش کرتا ہے اور کون سست اور غافل ہے –   اگر لوگوں کو متعین طور پر وہ رات معلوم ہوتی تو اکثر لوگ صرف اسی رات کو قیام میں گزارتے اور باقی راتیں غفلت میں گزار دیتے۔ لیلۃ القدر کی اگر تعیین کر دی جاتی تو کمال امتحان وآزمائش نہ ہوپاتا-
لیلۃ القدر کی  علامات
لیلۃ القدر کی کچھ علامات احادیث میں اس طرح آئی ہیں ۔
 ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:لیلۃ القدر کی صبح کو سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ وہ ایسے ہوتا ہے جیسےکہ تھالی (پلیٹ)” (صحيح مسلم:726)
 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کون اسے یاد رکھتا ہے(اس رات) جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ”((صحيح مسلم:1170)
 عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے  رسول اکرم  ﷺ نے فرمایا:لیلۃ القدر آسان و معتدل   رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ ہی سردی۔ اس کی صبح کو سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوتی ہے”(مسند بزارا۱/۴۸۶، مسند طیالسی۳۴۹، ابنِ خزیمہ۳/۲۳۱”۔شیخ سلیم الھلالی اور شیخ علی حسن عبدالحمید نے صفة صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صفحہ 90  پر اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے)
علامہ ابن القیم رحمہ الله فرماتے ہیں: اگر شب قدر پورے سال میں تلاش کرنے کا حکم ہوتا تو میں اس ایک رات کو پانے کے لئے پورے سال قیام کرتا یہاں تک کہ اسے پالیتا پس دس راتیں تو کچھ بھی نہیں ہیں۔(بدائع الفوائد:1/55)
لیلۃ القدر کی خصوصی دعا:
عائشہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ یہ لیلۃ القدر ہے تو میں کیا پڑھوں۔ آپ ﷺنے فرمایا: یہ دعا پڑھو: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّى۔”اے اللہ ! تو بہت معاف کرنے والا ہے معاف کرنا تجھے پسند ہے پس تو مجھے معاف فرما۔(سنن الترمذى، الدعوات،باب في فضل سؤال العافية والمعافاة)
ثالثا:صدقۃ الفطر کے احکام و مسائل
زکاۃ الفطر وہ زکاۃ ہے جو صیامِ رمضان کے خاتمہ پر مخصوص شرائط کے ساتھ، مخصوص مقدار میں صوم کو لغو اور بیہودہ امور سے پاک کرنے اور مساکین کو غذا فراہم کرنے کی غرض سے واجبی طور پر ادا کی جاتی ہے۔
صدقہ الفطر کا حکم
صدقۃ الفطر ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: “فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺزَكَاةَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ مِنَ المُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ “
)بخاري،كِتَابٌ الزَّكَاةُ’بَابُ فَرْضِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ ).
” رسول اکرم ﷺ  نے رمضان کا فطرہ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، ہر آزاد وغلام، مردو عورت ،چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض قرار دیا ہے اور ساتھ ہی حکم دیا کہ عید کے لئے لوگوں کے نکلنے سے پہلے اسے ادا کر دیا جائے “-
ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے صدقۃ الفطر کا حکم
ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرنا واجب نہیں بلکہ
مستحب ہے۔(مجموع فتاویٰ الشيخ ابن عثیمین (18/263)
عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل کی وجہ سے جنین کی طرف سے صدقۃ الفطر نکالنا مستحب ہے لیکن واجب نہیں ہے کیونکہ وجوب کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
(اللجنۃ الدائمۃ (9/366)
زکاة فطر کی حکمت :
زکاۃ فطر میں بہت سی دینی واخلاقی اور اجتماعی ومعاشرتی حکمتیں پائی جاتی ہیں –
 زکاۃ فطر کی ادائیگی سے حالت صوم میں صادر ہوجانے والی کوتاہیوں، خامیوں، کمیوں، لغویات،نقائص اور گناہ کے کاموں سے پاکی ہوجاتی ہے۔
 زکاۃ فطر کی ادائیگی سے عید کے پر مسرت موقعہ پر غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کو بھیک مانگنے کی ذلت سے محفوظ رکھا جاتا ہے –
 زکاۃ فطر کی ادائیگی میں اﷲ کی نعمت کے شکریہ کا اظہار ہے  کہ اس نے رمضان کے صیام وقیام کی تکمیل کی توفیق بخشی اور اس مہینہ میں نیک اعمال کرنے کی سہولت عطا فرمائی۔
 زکاۃ فطر کی ادائیگی فقراء اور مساکین کے ساتھ بہتر سلوک اور نیک رویہ کا مظہر ہے۔
 زکاۃ فطر کی ادائیگی سے سخاوت وفیاضی اور ہمدردی وغمخواری کے بلند ترین اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔
صدقۃ الفطر کن چیزوں سے دیا جائے ؟
جن غلہ جات کو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے، ان سے صدقۃ الفطر ادا کر سکتا ہے، آپ ﷺ  کے زمانہ میں لوگ عموما جو، کھجور، منقہ اور پنیر کھاتے تھے، اس لئے  آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان اجناس سے صدقۃ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا’ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،  ہم رسول اکرم ﷺ  کے زمانے میں عید الفطر کے دن کھانے کا ایک صاع دیا کرتے تھے ، اور اس وقت ہمارا کھانا جو ، کھجور، منقہ اور پنیر پر مشتمل ہوا کرتا تھا “. (صحيح بخاري : 1506)
چونکہ ہمارے علاقے میں گیہوں، چاول، دال ، چنا، جو ، مکئی ، باجرہ ، جوار وغیرہ کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں ، لہٰذا ان میں جو جنس عموما زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس سے صدقۃ الفطر ادا کرنا واجب  ہے  ۔
ضرورت اور حاجت کے اعتبار سے ایک سے زائد فطرانہ دیا جا سکتا ہے ۔
ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں : ” افضل وہ ہے جو زیادہ نفع بخش ہو ؛ چنانچہ اگر فقراء کی تعداد زیادہ ہے تو کسی ایک کو دینے کے بجائے سب میں تقسیم کرنا افضل ہے، لیکن اگر صرف چند لوگ ہی ضرورت مند ہوں تو صرف انہیں میں تقسیم کر دینا بہتر ہے تاکہ ان کی ضرورت پوری ہو سکے (مجموع فتاوى ورسائل العثيمين). 
مزید فرماتے ہیں : ” فطرانہ ہر شخص کی جانب سے ایک صاع مقرر ہے، لیکن اس میں یہ مقرر نہیں ہے کہ کس کو دینا ہے، اس لیے فطرانہ ایک سے زائد مساکین پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، اور متعدد فطرانے ایک مسکین کو بھی دئیے جا سکتے ہیں “۔
(الشرح الممتع على زاد المستقنع:15/161).
زکاۃ الفطر کی ادائیگی کا وقت:
زکاۃ الفطر کی ادائیگی کے بارے میں  چار اوقات ہیں، ان کے احکام مختصراً حسب ذیل ہیں:
❶ جائزوقت:
اگر زکاۃ الفطر عید سے ایک دو یا زیادہ سے زیادہ تین دن قبل ادا کردی جائے تو جائز ہے. یعنی ایک مسلمان عید سے ایک یا دو دن پہلے ہی صدقۃ الفطر غریب اور مسکین تک پہونچا سکتا ہے ۔
جیسا کہ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: “كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُعْطِيهَا الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا،وَكَانُوا يُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ”)بخاري،كِتَابٌ’الزَّكَاةُ ،بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ عَلَى الْحُرِّ).
” ابن عمر رضی اللہ عنہ فطرہ ان لوگوں کو دیتے تھے جو اسے قبول کیا کرتے تھے نیز اسے عید الفطر سے ایک دن یا دو دن پہلے دے دیا جاتا تھا ۔
 ابن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر سے دو یا تین روز پہلے زکاۃ الفطر بھجوا دیا کرتے تھے۔ (موطا امام مالک،الزکوۃ باب وقت ارسال الزکوۃ).
اگر آپ غلہ جات کو بالکل صبح صبح فقراء ومساکین تک پہونچا سکتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے ورنہ پھر ایک یا دو دن پہلے ہی نکال دیں تاکہ عید کی نماز سے پہلے ہی فقراء ومساکین کے گھر تک پہونچ جائے اور انہیں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے ۔
❷ واجب وقت:
رمضان کے آخری دن کا سورج غروب ہوجانے پر زکاۃ الفطر کی ادائیگی واجب
ہوجاتی ہے۔ کیونکہ صومِ رمضان ختم ہوجاتا ہے، فطر شروع ہوجاتا ہے، اور نبی
ﷺ نےمسلمانوں پر فطر کی زکاۃ فرض کی ہے، لہذا فطر ہوتے ہی فرضیت کا حکم مرتب ہوجائے گا.
❸ افضل وقت:
لوگوں کے صلاۃِ عید کے لئے نکلنے سے قبل زکاۃ الفطر کی ادائیگی افضل اور بہتر ہے۔ ’’وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ‘‘(صحیح بخاری:1503۔صحیح مسلم:984)۔رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ لوگوں کے نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے اسے ادا کر دیا جائے.
❹ ممنوع اورغیر مقبول وقت:
اگر زکاۃ الفطر کی ادائیگی بلاعذر نمازِ عید کے بعد کی جائے تو ایسا کرنا ناجائز ہے۔  ارشادِ نبوی ﷺ ہے:’’فمَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَات‘‘(سنن ابو داود، کتاب الزکوۃ،۔سنن ابن ماجہ،الزکوۃ باب صدقۃ الفطر)۔
جس نے اسے نماز عید سے قبل ادا کردیا، اس کی زکاۃ مقبول ہے، اور جس نے اسے نماز کےبعد ادا کیا وہ عام صدقہ ہوگا ۔
صدقۃ الفطر کی ادائیگی میں کسی عذر کے بغیر نمازعید پڑھ لینے تک تاخیر جائز نہیں، اگر کسی نے جان بوجھ کر موخر کردیا تو قبول نہ ہوگا ساتھ ہی گنہگار بھی ہوگا  اور اس کا شمار عام صدقات میں ہوگا البتہ اگر کوئی شخص عید سے پہلے نکالنا بھول گیا یا کسی مجبوری کی وجہ سے عید سے پہلے نہیں نکال سکا تو عید کی نماز کے بعد نکال دے ،قوی امید ہے کہ اس کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا ہو جائے گا۔ (الشرح الممتع،ابن عثيمين).
 جو لوگ اجتماعی طور پر صدقۃ الفطر وصول کرتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ عید کی نماز سے پہلے وصول کئے ہوئے صدقۃ الفطر کو فقراء اور مساکین میں تقسیم کردیں اور اس میں قطعا تاخیر نہ کریں-کیونکہ ان کے لئے عید کی نماز کے بعد تک اپنے پاس رکھے رہنا جائز نہیں ہے ۔
صدقۃ الفطر کہاں نکالیں؟
مسلمان جہاں پر عید کرے وہیں کے فقیروں کو اپنا فطرہ دے دے خواہ وہ اس کا وطن ہو یا وہاں عارضی طور پر مقیم ہو
لیکن اگر اس کے گھر والے اس کی طرف سے نکال دے رہے ہیں تو بھی ان شاء الله اس کی ادائیگی ہو جائے گی ۔ (زكاة الفطر للقحطاني)
اور اگر کسی دوسری جگہ یا دوسری بستی کے فقیروں کو پہنچادے تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اصل جواز ہے اور دوسری جگہ بھیجنے سے  مانع کوئی دلیل موجود نہیں ۔
صدقۃ الفطر کتنا نکالیں؟
   گھر کے ہر فرد کی طرف سے ایک صاع غلہ نکالنا ہے ۔ ایک صاع چار مد کے برابر ہوتا ہے ،اور ایک مد کی مقدار معتدل ہاتھوں کی دونوں ہتھیلیوں بھر اناج کی ہوتی ہے۔(عون المعبود و حاشیۃ ابن قیم،بحوالہ منزلة الزكاة في الإسلام القحطاني).
جدید پیمانے کے مطابق ایک صاع تقریبا تین کلو گرام ہوتا ہے ۔(فتاویٰ ابن باز(
زکاة فطر کا مصرف اور اس کے حقدار :
راجح قول کے مطابق صدقۃ الفطر صرف اور صرف فقراء اور مساکین ہی کو دیں ، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : “فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ “( أبوداود’الزَّكَاةِ’بَابٌ زَكَاةُ الْفِطْرِ).
” رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر روزے کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لئے  اور مسکینوں کے کھانے کے لئے  فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے (عید کی )نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہوگا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا ” 
علامہ عظیم آبادی عون المعبود میں اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : ” اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صدقۃ الفطر صرف مساکین و غرباء کو دیا جائے گا ،اور زکاۃ کے دیگر مصارف کو نہ ملے گا ۔ (عون المعبود وحاشية ابن القيم).
صدقۃ الفطر کا صرف ایک ہی مصرف ہے اور وہ ہیں فقراء اور مساکین۔
(مجموع فتاویٰ الشيخ ابن عثیمین (18/259)
کیا صدقۃ الفطر میں نقد روپیہ نکال سکتے ہیں؟
درج ذیل اسباب کی وجہ سے روپیہ نکالنا درست نہیں:
 احادیث میں  کھجور، کشمش، پنیر، جو اور طعم ” کا تذکرہ ہے اور طعم سے مراد غلہ ہے جسے غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ عہد نبوی میں قیمت اور درہم ودینار موجود اور معروف تھے لہذا اگر قیمت اور پیسے بلا کسی اضطرار اور مجبوری کے جائز ہوتے تو احادیث میں اس کا تذکرہ ضرور ہوتا،  احادیث میں اس کا تذکرہ نہ ہونے کا مطلب ہے کہ اصل غلے ہی نکالنا ہے ۔
 آپ ﷺ نے پوری زندگی غلہ ہی نکالا ہے اور غلہ نکالنے کا حکم  بھی دیا ہے ۔
 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی  غلہ نکالتے تھے ۔
 امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ صدقۃ الفطر میں قیمت نکالنا درست نہیں ہے ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تو قیمت نکالتے تھے، اس پر امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ لوگ رسول اللہ ﷺکے فرمان کو چھوڑتے ہیں اور فلاں فلاں کی بات پر عمل کرتے ہیں ” (المغني لابن قدامة،ذخيرة العقبى في شرح المجتبى : 22/299).
  شیخ الحدیث عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : “یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ آج لوگوں کے یہاں نقد دینے کا ایسا تصور قائم ہو چکا ہے کہ فطرانہ میں نقد دینا ہی اصل سمجھتے ہیں ، حالانکہ اگر تھوڑی دیر کے لئے نقدی کا جواز تسلیم کرلیا جائے تو بہتر اور سنت کا طریقہ وہی ہوگا جو عہد نبوی اور دور صحابہ سے ثابت ہے اور رقم کا دینا بعض حالات میں صرف جائز ہوگا ۔ والله اعلم بالصواب”(مرعاة المفاتيح).
   خلاصہ یہ کہ اگر کسی کے پاس غلہ یا طعام نہ ہو یا کوئی اور مجبوری ہو تو اس کے لئے نقدی نکالنا درست ہو سکتا ہے مگر عام حالات میں نقدی نہ نکالنا ہی درست ہوگا ۔
یہاں پر یہ بات یاد رہے کہ صدقۃ الفطر کا مقصد سال بھر کے اخراجات کو پورا کرنا نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے عید کے خوشی کے موقع پر انہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئے اور وہ بھی شکم سیر ہو سکیں.لہذا فقراء ومساکین کی دیگر ضروریات زکاة وصدقات اور دیگر عطیات سے کریں،صدقۃ الفطر سے نہیں ۔
اللہ تعالی مسلمانوں کو اعتکاف کی سنت زندہ کرنے کی توفیق بخشے نیزہم سب کو چاہئے کہ شب قدر کے فضائل حاصل کرنے کے لئے محنت کریں،ذکرو تلاوت اور نمازوں سے اسے زندہ و آباد رکھیں تاکہ اس کا پورا فائدہ حاصل ہوسکے ،اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق بخشے۔(آمین)