
بسم اللہ الرحمن الرحیم
درس نمبر 19
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین أما بعد
بلا شبہ اللہ تعالی نے ایک وقت کو دوسرے وقت پر فضیلت دی ہے جیسے کہ ایک مقام کو دوسرے مقام پر فضیلت بخشی ہے اللہ رب العالمین نے اپنے بندوں کے لیے حصول ثواب کی خاطر اور درجات کی بلندی کے لئے اطاعت کے کاموں میں محنت کرنے کو مشروع قرار دیا ہے، ہم لوگ اس وقت رمضان کے آخری عشرے کے دہانے پہ ہیں وہ رمضان جو دوسرے مہینوں سے ممتاز ہے اور رمضان کا یہ آخری عشرہ جو رمضان کے دیگر ایام سے ممتاز ہے اس آخری عشرے کی کچھ خصوصیات اور کچھ امتیازات ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ آج کے درس میں ان شاءاللہ ہوگا
نمبر ایک
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اس آخری عشرے میں اتنی محنت کرتے تھے جتنی اس مہینے کے دیگر دنوں میں اور سال کے دیگر ایام میں نہیں کیا کرتے تھے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ. رواہ مسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اتنی محنت کرتے تھے جتنی دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔
نمبر دو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب یہ آخری عشرہ داخل ہوتا تو اپنی بیویوں سے الگ ہو جاتے اپنی راتوں کو زندہ رکھتے نماز میں ذکر و اذکار جیسے اللہ تعالی کی اطاعت کے کاموں میں شب بیداری کرتے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ. متفق علیہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ اپنی کمر کس لیتے راتوں کو بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے۔
نمبر تین
مسلمان کے لیے مسنون ہے کہ اپنے اہل و عیال کو اس عشرے میں نماز اور عبادت کے لیے جگائے اور انہیں نماز اور عبادت پر ابھارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال کو جگایا کرتے تھے جیسا کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ابھی گزشتہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
نمبر چار
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور اعتکاف کسے کہتے ہیں، تفصیل گزر چکی ہے، اعتکاف اللہ تعالی کی اطاعت کے لیے خواہ وہ نماز ہو قرآن ہو یا ذکر و اذکار ہوں کسی مسجد کو خاص کرنا لازم کر لینا اور اسی سے چمٹ کے رہ جانا اعتکاف کہلاتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ. متفق علیہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ رب العالمین نے آپ کو وفات دے دی پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے بھی اعتکاف کیا
نمبر پانچ
اس آخری عشرے کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے کہ اسی آخری عشرے میں لیلۃ القدر ہے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْ صَبِيحَتِهَا مِنِ اعْتِكَافِهِ قَالَ : ” مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ مِنْ صَبِيحَتِهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ “. فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَبَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صُبْحِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، آپ نے ایک سال اعتکاف کیا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی اور یہ وہ رات تھی جس رات کی صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعتکاف سے نکلا کرتے تھے تو آپ نے کہا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ آخری عشرے میں اعتکاف کرے مجھے خواب میں یہ رات دکھائی گئی پھر مجھے اسے بھلا دیا گیا میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا تھا کہ میں اس کی صبح کو مٹی اور پانی یعنی کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں تو تم شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو اور اس کو طاق راتوں میں تلاش کرو چنانچہ اس رات کو بارش ہوئی اور مسجد چھپر کی تھی چنانچہ مسجد ٹپک پڑی تو میری دونوں آنکھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے چہرے پر پانی اور کیچڑ کے نشان تھے اور یہ 21کیسویں رات کی صبح تھی۔
لوگو! اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ محنت کرو ممکن ہے کہ شب قدر کو پاجاؤ اور شب قدر پانے کے نتیجے میں عظیم اجر و ثواب کے مستحق بن جاؤ
لوگو! اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے لیے اپنے عمل کو خالص کرلو کیونکہ بندے کو نیک اعمال میں محنت کرنے اور بھلائیاں کمانے میں کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو لوگو جلدی کرو جلدی کرو اس مہینے میں جو ایام باقی رہ گئے ہیں اس میں عمل کو غنیمت سمجھو ممکن ہے کہ جو عمر ضائع ہو چکی ہے اس کی تلافی اس سے ہو جائے
اے روزہ دارو! تم نے ماہ صیام کا اکثر حصہ گزار لیا ہے اور اس مہینے کی چند راتیں اور چند ایام باقی رہ گئے ہیں تو جس نے گزشتہ ایام میں گزشتہ راتوں میں محنت کیا ہو تو اپنی محنت کو جاری رکھے اور اس پر اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے اور اللہ تعالی سے اپنے اعمال کو قبول کرنے کی دعا کرے اور جس نے ان دنوں میں کوتاہی کی ہو اور برے عمل کیے ہوں تو اپنے رب سے توبہ کرے کیونکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور جو ایام باقی بچے ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ احتیاط کرنے اور ان ایام کو غنیمت سمجھنے میں جلدی کرے۔ کیوں کہ بہت سارے ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اس آخری عشرے کو پانے کی تمنا کی تھی اور انہیں موت نے پکڑ لیا تو وہ اعمال کے بدلے گروی کے طور پر اپنی قبروں میں چلے گئے وہ اپنے نیک اعمال میں اضافہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور جو انہوں نے کوتاہی کی ہے اور جو غفلت سے کام لیا ہے اس سے توبہ کی طاقت نہیں رکھتے۔ لوگو! تم نے اللہ تعالی کی نعمت سے صحت و عافیت کی حالت میں اس آخری عشرے کو پالیا ہے تو اس میں کوشش کرو نیک اعمال کے ذریعہ دعاؤں کے ذریعہ ممکن ہے کہ تم اللہ تعالی کی رحمت کا ایک حصہ پاجاؤ تو تم دنیا اور آخرت دونوں ہی میں کامیاب رہو اور سعادت حاصل کرو.
لوگو! امام کے ساتھ رات کے ابتدائی و آخری حصے میں قیام اللیل کے حریص بنو، قیام رکوع اور سجود لمبی لمبی کرو اپنے رب کے سامنے زیادہ سے زیادہ گریہ و زاری کرو اور اس سے اپنی حاجتیں طلب کرو اور اس سے اپنی عبادات کے لیے توفیق طلب کرو اور اس کے لیے مدد طلب کرو اس کی نعمتوں اور اس کے احسانات پہ شکریہ ادا کرو اور اپنی دعاؤں میں الحاح و اصرار سے کام لو اور اپنے رب سے زیادہ سے زیادہ مغفرت اور معافی طلب کرو۔
وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین