
صلاح الدین لیث مدنی
مرکز الصفا الاسلامی نیپال
اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے جو صرف خوشی و مسرت ہی نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور دینی شعائر کو اپنانے کا بھی بہترین موقع ہے۔ یہ دن وحدتِ امت، اخوت اور ایثار و قربانی کا عملی مظہر ہوتا ہے۔ اسلام میں دو بڑی عیدیں ہیں عید الفطر اور عید الاضحی۔ عید الفطر رمضان المبارک کے روزوں کے بعد بطور انعام عطا کی گئی ہے جسے شکر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن اللہ کی طرف سے بندوں کے لیے خوشی کا پیغام لاتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد روحانی و اجتماعی تطہیر ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ (صحیح مسلم)
اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے اور انعامات و برکات نازل کرتا ہے۔ عید کی حقیقت صرف ظاہری خوشی تک محدود نہیں بلکہ اس کے کچھ اہم احکام و آداب بھی ہیں جن کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلا عمل جو اس دن کیا جاتا ہے وہ صدقۂ فطر کی ادائیگی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان معاشی تنگی کی وجہ سے عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر فرض کیا تاکہ روزہ دار چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے پاک ہو جائے اور مساکین کی مدد کی جا سکے۔(ابوداؤد)
نمازِ عید اسلامی شعار میں سے ایک ہے جو اجماعی طور پر مشروع ہے۔ یہ نماز کھلے میدان میں ادا کرنا افضل ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اس اجتماع میں شریک ہو سکیں۔ نبی کریم ﷺ عیدین کی نماز عیدگاہ میں پڑھا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ عید کے دن کے مستحب اعمال میں صبح جلدی اٹھنا، غسل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا اور نمازِ عید کے لیے نکلنے سے قبل کچھ میٹھی چیز خاص طور پر کھجور کھانا شامل ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے کہ آپﷺ طاق عدد میں کھجوریں تناول فرماتے تھے۔ اس کے علاوہ تکبیرات کا بلند آواز سے ذکر کرنا بھی مسنون ہے: اللّٰہُ أَکْبَرُ، اللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، اللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔ عید کا دن ایثار، محبت اور بھائی چارے کا عملی درس دیتا ہے۔ اس دن ضرورت مندوں کا خیال رکھنا، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرنا اور اپنے گرد و نواح کے غریب افراد کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنا اصل روحِ عید ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری)
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ عید کے دن اپنی خوشیوں کو محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ الغرض، عید اسلامی تہذیب کا وہ خوبصورت پہلو ہے جس میں روحانی ترقی، سماجی بہبود اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول شامل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس موقع پر دینی احکام کی پابندی کرتے ہوئے عید کو حقیقی خوشی اور برکت کا ذریعہ بنائیں تاکہ نہ صرف ہماری زندگیوں میں بلکہ پوری امت میں خیر و برکت کا نزول۔ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں عید کی حقیقی خوشیوں سے سرفراز فرما، ہمارے گناہوں کو معاف فرما، امتِ مسلمہ کو اتحاد و یگانگت عطا فرما اور ہمیں اپنی رضا کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین