مری زمین پہ فتنے اٹھا رہا ہے کوئی
ہر ایک موڑ پہ مقتل سجا رہا ہے کوئی

ہر ایک دل میں عداوت ہے تنگ نظری
ہے
   محبتوں کے چمن کو جلا رہا ہے کوئی

  کسی کو فکر نہیں ہے ہمارا کیا ہوگا
جہان علم و وہنر کو مٹا رہا ہے کوئی

امیر لشکر جمہوریت بھی بزدل ہے
زمام کار وطن کا چلا رہا ہے کوئی

مجھے غلاموں کی صف میں نہیں کھڑا ہونا
   مرے وقار کی عظمت گھٹا رہا ہے کوئی

کہاں سے نکلے وطن میں عروج کا تارا
     جوانوں نقش تمنا مٹا رہا ہے کوئی

     قیام امن کی تحریک روکنے کے لیے
وطن کی راہوں پہ پہرہ بٹھا رہا ہے کوئی

ا ٹھو بدل دو نظام چمن اشاروں میں
ترے ضمیر کی قیمت لگا رہا ہے کوئی

وطن کی آن پہ قربان ہے یہ جان و دل
محب قوم و وطن دیکھو آرہا ہے کوئی


قدم قدم پہ بلائیں ہیں کیا کروں انصر
خلوصِ دل کو دکھاوا بتا رہا ہے کوئی

طالب دعا: انصر نیپالی