از قلم✍️

ڈاکٹر منظور احمد علیمی
یا اللہ! پھر سے صلاح الدین ایوبی بھیج دے!(رحمۃُ اللہ علیہ)

یہ نعرہ تب بلند ہوتا ہے جب سوشل میڈیا کی اسکرین پر غزہ کی چیخ، کشمیر کی آہ، ہندوستان کی بے بسی اور امتِ مسلمہ کی اجڑی مساجد و ویران مدارس کا منظر آنکھوں سے ٹکرا جاتا ہے۔

کتنا آسان ہو گیا ہے…
بس انگلی سے اسٹوری لگانا…،
زبان سے نعرہ لگانا۔۔۔،
ٹک ٹاک پر کوئی ترانہ بجا دینا اور پھر اپنی comfort zone میں واپس لوٹ جانا۔

مگر افسوس!
یہ نعرہ اب صرف ایک خالی دعویٰ رہ گیا ہےجسے ہم مظلوموں کی تصویروں پر editing کر کے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنا فریضہ ادا کر دیا اب پھر سےہماری پوسٹ سے صلاح الدین ایوبی تشریف لائیں اور اُمتِ مسلمہ کو بچا لیں۔

ہم وہ امت بن چکے ہیں
جو صلاح الدین ایوبی رحمۃُ اللہ علیہ کا نام تو لیتی ہے مگر ان کے راستے پر چلنے کے لیے اپنی نیند، بری عادت، اور  اسکرین کی قربانی دینے کو بھی تیار نہیں ہمارا جہاد صرف لائکس تک۔۔۔
اور ہمارا درد صرف ویڈیوز کی بےچین دھنوں تک محدود ہو چکا ہے۔

جبکہ *صلاح الدین* (رحمۃُ اللہ علیہ)
وہ راتوں کے نمازی۔۔۔۔،
قرآن سے لپٹ کر رونے والے۔۔۔،
اور امت کی عزت کے لیے تلوار اٹھانے والے مردِ حق تھے۔

اور ہم❗️
ہم تو وہ ہیں کہ موبائل کی بیٹری 20% پر آئے
تو آنکھیں فوراً کھل جاتی ہیں مگر اذانیں گونجتی رہیں
تو بھی دل خوابِ غفلت سے نہ جاگے۔
ہم بیت المقدس کی تصویریں تو جوش سے شیئر کرتے ہیں مگر فجر کی نماز میں اپنی گلی کی مسجد تک جانا بھی گوارا نہیں کرتے۔
ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں
کہ شاید صلاح الدین کا قافلہ ہمارے پوسٹ، اسٹوری اور لائکس سے واپس آ جائے گا…
اور ہم آرام دہ بستروں میں لیٹے دنیا کو بدلا ہوا پائیں گے۔

ہم وہ قوم بن گئے ہیں…
جو زخموں پر آنکھ نم کر کے تو گزر جاتی ہے مگر اپنے کردار میں کوئی تبدیلی کسی مظلوم کے حق میں آواز
یا ظالم کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنے سے گریزاں ہے۔

اور *ہندوستان*🇳🇪
جہاں کبھی اذانیں گونجتی تھیں
اب وہاں مساجد کی بنیادیں گرائی جا رہی ہیں…
جہاں بیٹیوں کے سروں پر فاطمی چادر فضا میں خُوشبو بگھیرتی تھیں
آج وہاں ان کی عزتیں نہ صرف بازاروں میں نوچی جا رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا کی اسکرینوں پر تماشہ بنا دی گئی ہیں۔
اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہےکہ مسجدوں کے میناروں پر
“اللہُ اکبر” کی صداؤں کوخاموش کر کے
بھگوا جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں۔

اور *ہم* ‼️
ہم صرف اسکرین پر لکھتے ہیں:
“م و د ی اور ی یو گ ی ہائے ہائے!”
اور اگلی پوسٹ پر بڑھ جاتے ہیں —
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

ہم نہ مسجد بچا سکےنہ مدرسہ نہ غیرت…،
مگر پھر بھی “یا اللہ! *صلاح الدین* بھیج دے.”کہہ کر سمجھتے ہیں کہ اب وہ آئیں گےاور  اُمت کے حالات ٹھیک کردینگے اور ہم اپنے کمبلوں میں لپٹے رہیں گے۔

سُنو۔۔۔
ڈاکٹر *اقبال* نے کیا خوب کہا ہے
“خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
جسے خود فکر نہ ہو اپنی ہی حالت بدلنے کی”
ہم نے میدانِ عمل چھوڑ دیا
اور سمجھ بیٹھے کہ صرف مساجد کی حاضری، خانقاہوں کی نشست اور دعاؤں کی زمزمہ خوانی ہی کافی ہے۔

اگر صرف دعا ہی ہر باطل کا خاتمہ کر سکتی تو بتاؤ  صلاح الدین ایوبی راتوں کو سجدوں میں گِر کر گریہ کیوں کرتے۔۔؟
اور دن کے اجالے میں شمشیر تھامے میدانِ کارزار میں کیوں اترتے۔۔؟
اگر صرف دعا سے ہی برائی کا خاتما ہوتا
تو پھر اُس کے قافلے کے پروانوں نے جامِ شہادت کیوں نوش کیا۔۔؟
بتاؤ…
بدر و احد کی مٹی کیوں خون سے سرخ ہوئی..؟
خندق و خیبر میں تلواریں کیوں چمکیں۔۔؟
اور قریظہ کے میدان میں وفا کی قیمت کیوں ادا ہوئی۔۔؟
اگر صرف دعاؤں سے ہی تبدیلی آ سکتی تھی تو ہمارے محبوب ﷺ صرف ہاتھ اٹھاتے مگر نہیں!
اُمت کو عمل کا پیغام دیاجسم و جاں کی قربانی سکھائی اور خود میدانوں میں اُتر کر یہ سبق دیا
کہ دعا تبھی اثر لاتی ہے جب ساتھ میں قربانی، عزم اور عمل کا خلوص ہو۔
ائے اُمتِ مسلمہ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے خود کو اس قابل چھوڑا ہی نہیں کہ ربِ ذوالجلال ہمیں بھی اپنے دین کے کسی کام کے لیے چُن لے۔
یہ نعرہ
“یا اللہ! صلاح الدین ایوبی رحمۃُ اللہ علیہ کو بھیج دے”
آج ہماری غفلت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
یہ امت وہ نہیں رہی
جو بدر میں 313 پروانوں کے ساتھ نکلی تھی یہ امت وہ ہے
جو اگر موبائل کا نیٹ ختم ہو جائے
یا WiFi کا پاسورڈ نہ ملے
تو بےچین ہو جائے مگر قرآن کا صفحہ ہفتوں تک بند رہےتو بھی ضمیر نہ جاگے۔
ملت سے فریاد…
نماز کو زندگی کا اصول بنا!
علم کو زندگی کا ہتھیار بنا!
اور ظلم کے خلاف زبان، قلم اور قدم کو بیدار کر!
ورنہ یاد رکھ…
صلاح الدین ایوبی رحمۃُ اللہ علیہ اب نہیں آئیں گے۔
اللہ اب تجھ سے کام لینا چاہتا ہے
اور اگر تُو نہ اٹھا…
تو وہ قافلہ جس کا تو وارث تھا ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائے گا۔
یا رب…!
“اگر تو نے ہمیں صلاح الدین رحمۃُ اللہ علیہ کے دور میں پیدا نہیں فرمایا لیکن ہمیں اس راہ کا مسافر بنا دےکہ ہم تیرے دیں کی سربلندی کے لیےکبھی خوابِ غفلت میں نہ سوئیں❕”

📍ساکن *برواں میر چھا پر*، دیسہی *دیوریا*،اُتر پردیش 274206