
جب سے سعودی عرب کی ریاست اپنے قیام کے ساتھ وجود میں آئی ہے تب ہی سے اس کی قیادت کا سب سے بڑا اعزاز اور اہم فریضہ “خدمت حرمین شریفین” رہا ہے۔ سعودی حکمرانوں نے ہمیشہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقدس کو اپنی ریاستی پالیسی کا مرکزی نقطہ بنایا اور امت مسلمہ کی خدمت کو اپنی بادشاہت کا شعار سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں نہ صرف حجاج کرام کی میزبانی مثالی انداز میں کی گئی بلکہ دنیا بھر کے اہم اسلامی اور عالمی شخصیات کو حج کے ذریعے روحانی یکجہتی کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی روایت بھی قائم رہی ہے۔ اس سال بھی اسی سلسلے کی ایک سنہری کڑی سامنے آئی ہے جو اس جذبۂ اخلاص کی زندہ مثال ہے۔ رواں برس 2025 میں سعودی حکومت نے اپنے شاہی پروٹوکول کے تحت دنیا کے 100 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والی 2443 نمایاں و مؤثر شخصیات کو حج بیت اللہ کی سعادت کے لیے خصوصی طور پر مدعو کیا ہے اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی ضیافت میں شامل کیا گیا ہے جہاں ان کے قیام، طعام، نقل و حرکت اور مناسک حج کی ادائیگی کا مکمل انتظام سعودی حکومت کی طرف سے کیا گیا ہے۔ یہ افراد دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں اسلامی ممالک کے اہم قائدین اور نمائندے، علمی اداروں کے سربراہان، دعوتی و فکری مراکز کے راہنما، معروف صحافی اور اسکالرز نیز ثقافتی اداروں سے جڑی ممتاز ہستیاں شامل ہیں۔ یہ میزبانی محض رسمی نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی پیغام لیے ہوئے ہے: مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنا، انہیں ایک عالمی اخوت کے دھارے میں سمو دینا اور حرمین شریفین کو اتحاد امت کا مرکز بنانا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں اس شاہی پروگرام کو ایک منظم نظام کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جس کے ذریعے دنیا بھر میں سعودی عرب کا وہ چہرہ اجاگر ہوتا ہے جو نہ صرف اسلامی تہذیب کا نگہبان ہے بلکہ عالم اسلام کی قیادت کے حقیقی احساس سے بھی سرشار ہے۔ ان شاہی مہمانوں کو مسجد الحرام اور عرفات کے میدان میں ایسی سہولیات دی گئیں جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اس موقع پر دنیا کے مختلف گوشوں سے آئے ہوئے ان افراد نے نہ صرف سعودی میزبانی کو سراہا بلکہ اسے امت مسلمہ کی وحدت کا مظہر قرار دیا۔ یہ دعوت حج محض رسمی دعوت نہیں بلکہ عالمی پیغام ہے کہ اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اخوت، ہم آہنگی، عزت و تکریم اور باہمی قربت کا داعی بھی ہے۔ سعودی حکومت کا یہ عمل امت مسلمہ کے درمیان فاصلے کم کرنے، دلوں کو جوڑنے اور روایتی اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی کو فروغ دینے کی ایک کامیاب کاوش ہے۔ اس عظیم خدمت پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان خصوصی تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے نہ صرف امت مسلمہ کی قیادت کا حق ادا کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ سعودی قیادت حرمین کی خدمت کو محض فریضہ نہیں بلکہ عبادت سمجھتی ہے۔ شاہ سلمان کی بصیرت افروز قیادت اور محمد بن سلمان کے جدید ارادوں نے سعودی عرب کو ترقی، خدمت اور عالمی اثر پذیری کی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں شخصیات کو سلامت رکھے ان کے اخلاص کو قبول فرمائے اور ان کی کاوشوں کو امت کے حق میں باعث خیر و برکت بنائے۔
صلاح الدین لیث المدنی
مرکز الصفا الاسلامی نیپال