پرویز یعقوب مدنی



خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال

ملک شام کی اسلامی شریعت میں کافی اہمیت ہے شام میں کئی ممالک داخل ہیں جن میں سے ایک اہم ملک فلسطین ہے جو بہت سارے انبیاء کا مولد و مسکن ہے جس کی جانب فتنوں کے ایام میں فتنوں اور تباہ کن حالات سے نجات اور گلوخلاصی کے لئے ہجرت کا حکم ہے مسلمانوں کی ایک عظیم تعداد وہاں موجود ہے  اسلام کی دوسری عظیم اور تاریخی مسجد مسجد اقصی ملک شام کی سرزمین ارض فلسطین میں موجود ہے مسجد اقصی تک ہمارے نبی کو اللہ رب العالمیں نے راتوں رات سیر کرایا ہے۔
اللہ رب العالمین چالیس راتوں پر مشتمل لمبی مسافت کو رات کے مختصر سے حصے میں سیر کروایا  تاکہ اپنے بندے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ کو مختلف النوع عجائبات اور اپنی بڑی نشانیاں دکھائیں۔ جن میں سے ایک معجزہ یہ سفر بھی ہے۔ وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کی بہت سی چیزوں کا اپنی آنکھ سے دیدار فرمایا نیز انبیاء کرام کی امامت کروائی وغیرہ۔ وہ عظیم اسلامی ملک آج اسرائیل کی ظلم وبربریت کا شکار ہے کم وبیش سال بھر سے وہاں کے باشندگان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں نہتے فلسطینیوں پر بمباری کی جارہی ہے اور یہود ان کے اس ملک پر قبضہ کرکے مسجد اقصیٰ کو کفر و شرک کا اڈہ بنانا چاہتے ہیں۔
مملکت سعودی عرب جس سے پوری دنیا میں بسے تمام مسلمانوں کا دینی ایمانی قلبی و روحانی رشتہ ہے جو ہماری عقیدتوں کا محور اور روحانیت کا مرکز ہے جس کی محبت میں تمام مسلمانوں کے دل دھڑکتے ہیں، وہاں کے معزز حکمران جس طرح غایت درجہ اخلاص اور انتہائی فراخ دلی سے دین اسلام کی خدمت اور دنیا کے مختلف گوشوں میں بکھرے اور پہیلے بلا تفریق تمام کلمہ گو مسلمانوں سمیت تمام انسانوں کی بخوشی حسب استطاعت معاونت کرتے ہیں۔ یہ سب ان کے ممتاز اوصاف ہیں۔
مملکت توحید سعودی عرب کو یہ سعادت حاصل ہے کہ وہاں کی مقدس سرزمین پر مسلمانوں کا قبلہ اور حرمین شریفین موجود ہے وہاں پر حج و عمرہ اور ان کے شعائر کی ادائیگی کے لئے ایک مرد مومن رخت سفر باندھتا ہے، پر امن مملکت میں پہونچ کر انتہائی سنجیدگی اور متانت کے ساتھ عبادتیں کرکے نیکییاں بٹورتا ہے، وہاں کے حکمران بہترین نظم و نسق بہم پہونچا کر اپنی اہم ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہوکر حرمین شریفین کی ریکھ دیکھ اور اس کی ہرطرح اور ہر محاذ پر حسن انتظام و انصرام کی ذمہ داری کو لینے کا خود کو من کل الوجوہ اہل ثابت کرتے ہیں اور یقینا وہی اس عظیم ذمہ داری کے مستحق بھی ہیں۔ عرب معاشرے کے باشندگان سخاوت و فیاضی کے جذبے سے ہمیشہ سرشار نظر آتے ہیں اور وہ اپنی مہمان نوازی کی ممتاز صفت سے بھی پوری دنیا میں معروف و مشہور ہیں۔
البتہ یہ واضح رہے کہ مملکت سعودی عرب کے حکام نے دیگر بادشاہوں کی طرح صرف شہری ترقی پر توجہ نہیں دی بلکہ انہوں نے وقت کے عظیم مصلح اور مجدد کی کتاب و سنت پر مشتمل فکری اور نظریاتی تحریک کی تائید و توثیق حاصل کرکے دینی اصلاح و تطہیر کو بھی پیش نظر رکھا اور مسلمانوں کے دینی جمود کا جی توڑ علاج کیا ملک کو استحکام ، خوشحالی، اور امن و امان کا گہوارہ بنایا، پائیدار مسلم معاشرہ کی تشکیل نو ہوئی اور اقوام عالم میں عزت و وقار سے روشناس کرایا گیا نیز معاشرے میں پہیلے شرک و بدعات کی بیخ کنی کی، ظلم وزیادتی اور انارکی ختم ہوئی، امن و یکجہتی اور خیر سگالی کو عام کیا انسانوں کے حقوق کے ساتھ ہمسایوں کے حقوق کو اجاگر کیا گیا، عفو و درگزر پر مبنی جذبے کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔فتنہ و فساد کی گرم بازاری کا قلع قمع ہوا۔ یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ مملکت سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظه اللہ نے اپنے آباء واجداد کی ملک و ملت کے تئیں سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پوری امت مسلمہ کے لیے جو خدمات ماضی میں انجام دے چکے ہیں وہ تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ اسلام اور امت مسلمہ کے لیے مملکت سعودی حکومت کی مخلصانہ خیر خواہانہ اور ہمدردانہ خدمات کو تعصب و تنگ نظری سے دور امت کا انصاف پسند طبقہ کبھی فراموش نہیں کرے گا ۔ إن شاءاللہ.
مملکت سعودی عرب کے توحید پرست حکمرانوں نے ہمیشہ فلسطینی مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھا اور جب بھی فلسطین پر اسرائیلیوں نے نظر بد اٹھایا تو سعودی حکومت نے فلسطینیوں کے قدم سے قدم ملا کر اسرائیلی مظالم سے اپنے اسلامی بھائیوں کو بچانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگادی۔ اور ہمیشہ فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت سے بچانے کے فکر مند نظر آئے۔ سعودی عرب کی خدمات کا بنظر غائر اور سنجیدہ مطالعہ سے یہ بات آشکارا ہوتی ہے کہ کتاب وسنت پر قائم حکومت دنیا کے تمام مسلمانوں پر آنے والے آفات و مصائب کو اپنی تکلیف سمجھتی ہے اور حسب طاقت دامے درمے قدمے سخنے اپنا تعاون پیش کرتی ہے۔
آج بھی جب بڑی بڑی طاقتیں خواب غفلت میں مست ہیں مملکت سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظه اللہ نے فلسطین کے اندر باشندگان فلسطین پر ظالم یہود کی جانب سے ہونے والے ظلم و بربریت کی وجہ سے مظلوم فلسطینیوں کی داد رسی، انسانی ہمدردی، امن وسلامتی، خدمت خلق اور غمخواری کے لئے مملکت توحید میں عوامی امداد و تعاون کو نہ صرف جاری و ساری رکھا بلکہ مملکت سمیت تمام باوقار شہریوں نے بڑھ چڑھ کر دامے درمے قدمے سخنے اپنا گرانقدر تعاون پیش فرمایا۔ اور سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو اپنے خرچ پر حج کے لئے دعوت دیا اور ان کی حسب بساط بھر پور میزبانی فرما کر اخوت و بھائی رہ، قلبی ہمدردی اور غمگساری کا ناقابل فراموش ثبوت دیا جس پر حکمران سعودی عرب اور پوری مملکت کے غیور شہری بجا طور پر شکرئے کے مستحق ہیں۔ رب العالمین تو مملکت سعودی عرب اور اس کے حکام اور باشندگان کو ہر شر سے مامون اور محفوظ رکھ۔ فلسطینی مسلمانوں کی غیبی مدد فرمایا۔ اور یہود ونصاریٰ کو خاک میں ملادے۔آمین