ڈاکٹر شہاب الدین مدنی



اس سال 2025 کا حج سیزن غیر معمولی اور شاندار کامیابی  کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہونچا یہ شاندار کامیابی ايک نمایاں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور مملکت سعودی عرب کی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے حوالے سے تابناک کارناموں کے ریکارڈ میں ایک نیا باب اور تخلیقی امتیاز کا اضافہ ہے۔
اس کامیابی کا سہرا سرکاری وغیر سرکاری تمام اداروں، رضاکار مرد وخواتین اور حجاج کرام کی ہدایات ورہنمائی پر عمل پیرا تمام جہتوں کو جاتا ہے۔ اسی طرح اس کا سہرا ان منصوبہ سازوں کو جاتا ہے جو حج کے انتظام وانصرام کے لئے پہلے سے جامع مربوط اور ہم آہنگ منصوبے تیار کرتے ہیں۔
اس فرحت وشادمانی کے موقع پر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عظیم کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ رب ذو الجلال کا خاص فضل واحسان ہے اور اس کے بعد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود – حفظہ اللہ – کی دانا قیادت اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز – حفظہ اللہ – کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی اور مسلسل پیروی کا نتیجہ ہے، ان نیک حکمرانوں نےحجاج کرام کی راحت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کی۔
اس سیزن میں کل 1,673,230 حجاج نے شرکت کی، اتنی بڑی تعداد کو کنٹرول کرنا ثبوت ہے کہ سعودی عرب کی قیادت دانشمند ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ فضل وکرم ہے۔
اس کامیابی میں وہ جامع خدمات بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں جو حجاج کرام کو فراہم کی جاتی ہیں، جیسے: صحت کی نگہداشت، ٹرانسپورٹ کی سہولیات، مواصلاتی وانفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات، ہجوم کا بہترین نظم ونسق، رہائش، خوراک ومشروبات، اور آگاہی ورہنمائی کے پروگرامز وغیرہ خاص طور پر جب اتنی بڑی تعداد محدود جگہوں پر بیک وقت موجود ہو۔
مختلف حالات کے پیش نظر حج اور حجاج کی سلامتی اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اپنائے گئے غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کو بھی اس سیزن کی کامیابی کا سہرا جاتا ہے کہ سیکیورٹی منصوبہ بندی کی باریک بینی اور سخت نفاذ نے حجاج کی حفاظت کو یقینی بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
اسی طرح جدید اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی حج کی کامیابی میں اہم کردار رہا، جن میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، ذہین روبوٹس، ڈرونز اور دیگر ڈیجیٹل حل شامل ہیں، جن کے ذریعے حجاج کرام کی ضروریات کے فوری اور مؤثر جواب کو یقینی بنایا، اور حج تجربے کے معیار کو بہتر بنایا۔
اس کے علاوہ حجاج کرام کی  آگہی، شعور وبیداری، اور ہدایات پر عمل کےلئے تعلیمی تربیتی مہم چلانے والے افراد بھی شکریہ کے حقدار ہیں کہ یہ حضرات حجاج کرام کی عمروں، ثقافتی پس منظر اور زبانوں کے تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تربیت کرتے ہیں ، جس سے کافی مدد ملتی ہے اور حج کا انتظام وانصرام کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔
نائب گورنر مکہ مکرمہ نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ اس سال کے حج کی کامیابی میں پیشگی اور درست منصوبہ بندی کا کلیدی کردار رہا، اور اگلے سال کے حج کی تیاریاں ابھی سے شروع ہو چکی ہیں، جو کہ مملکت کے پیشگی تیاری اور مسلسل تیاری کے نظریے کی دلیل ہے۔
اس سال حج کی کامیابی میں مکمل حج نظام کے تمام عناصر نے مرکزی کردار ادا کیا، جس میں نوّے ہزار سے زائد افراد شامل تھے، جن میں طبی اور سیکیورٹی عملہ، ہزاروں رضاکار مرد وخواتین، اسکاؤٹس اور دیگر خدمات انجام دینے والے شامل تھے، جنہوں نے اعلیٰ انسانی خدمت اور قربانی کی روشن مثال قائم کی۔ یہ منظم نظام ہم آہنگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا رہا، اور اس کی اولین ترجیح ہمیشہ حجاج کرام کی خدمت اور ان کی عبادات کو امن، راحت اور سکون سے ادا کرانا رہی۔
حج کی یہ کامیابی محض تنظیمی یا انتظامی کامیابی نہیں، بلکہ یہ مملکت کی اعلیٰ پیغام رسانی کا مظہر بھی ہے، جو ضیوف الرحمن کی خدمت کو ایک مقدس فریضہ سمجھتی ہے۔ یہ اس قیادت کی بصیرت کا نتیجہ ہے جس نے خدمتِ حرمین شریفین کو اپنی اولین ترجیح بنایا، اور “خدمتِ ضیوف الرحمن” کے نام سے وژن 2030 کا ایک جامع پروگرام ترتیب دیا۔ یہ عظیم الشان کامیابی مملکت، اس کی قیادت، اس کے عوام اور پوری امتِ مسلمہ کو مبارک ہو۔
یہ کامیابی نوید دے رہی ہے کہ آئندہ کا حج سیزن بھی مزید
شاندار اور ممتاز رہے گا۔ان شاء اللہ۔
اللہ تعالیٰ مملکت سعودی عرب کو حاسدوں کے حسد منافقوں کے نفاق اور بدخواہوں کی نظر بد سے بچائے۔ آمین