








مدارس و مکاتب کا گرتاہوا معیار باعث افسوس:ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی
ھارون انصاری
لمبنی،نیپال اردو ٹائمز :جامع مسجد دارالسلام پڑریا چوراہا ،مولد گوتم بودھ سے متصل لمبنی روپندیہی نیپال میں نصف شبی اصلاحی و تربیتی عظیم الشان پروگرام منجانب المجد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سنٹر منقعد ہوا جس میں قرب وجوار کے اجلاء علماء کرام، طلبہ اور عوام (مردوزن )نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز فضیلۃ الشیخ حافظ فضیل احمد مدنی حفظہ اللہ(مشرف مرکز تحفیظ القرآن الکریم بھینسہیا، روپندیہی، نیپال) نے تلاوت کلام اللہ سے کیا۔ اللہ کی حمد ثنا حافظ عبدالعظیم سنابلی، اور نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حافظ عثمان ظہیر سنابلی نے بالترتیب پیش کی۔
پروگرام کی صدارت کا فریضہ مسند خطابت کے کہنہ مشق اور ہردلعزیز شخصیت فضیلۃ الشیخ پرویز عالم ریاضی حفظہ اللہ (استاذ جامعہ فیض الاسلام السلفیہ پڑریا، روپندیہی، نیپال) نے انجام دی۔ہند ونیپال کی معتبر معزز علمی شخصیات ،مہمانان کرام اور سامعین کا استقبال فضیلۃ الشیخ ضیاء الدین ریاضی حفظہ اللہ (پرنسپل مرکز التعلیم و الدعوۃ الاسلامیۃ، تنہوا، نیپال) نے کیا۔ جبکہ نظامت کی ذمہ داری فضیلۃ الشیخ پرویز ہارون سنابلی حفظہ اللہ ( تنہوا لمبنی روپندیہی نیپال) نے کما حقہ نبھائی۔
اس دعوتی،اصلاحی،دینی پروگرام کے پہلے فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی (شیخ الجامعہ جامعہ عالیہ عربیہ، مئو) تھے، آپ نے “مکاتب ومدارس کا گرتا ہوا معیار اسباب وعلاج” موضوع پر روشنی ڈالی اور کہا کہ تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم کا گراف بڑی تیزی کے ساتھ گرتاہوا نظر آرہاہے اگرفوری طور پر اس پر غور وفکر نہ کیا گیا توبہت جلد ہم تنزلی اور گمراہی کے دلدل میں پھنس جائیں گے،جہقں سے نکلنا آسمان سے تارے لانے کے مترادف ہوگا، تعلیم انسانی زندگی کےلئے اتنا ہی اہمیت رکھتی ہے جتنا زندگی کےلئے سانس،تعلیم سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور معاشرتی خرابیاں دور ہوتی ہیں ، معاشرہ صالح ہوتاہے، قوم وملت کی ترقی کا راز اسی تعلیم میں مضمر ہے،جوقوم تعلیم وتعلم سے عاری ہوتی ہے اس کا انجام بڑا بھیانک ہوتاہے۔یہی وجہ ہے اللہ جل جلالہ نے حضرت آدم کی تخلیق پر انہیں سکھلایا،تعلیم دی اور ہمارے پیشوا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے جبریل امین نے بحکم الٰہی اقراءکے ذریعہ ہی تعلیم دی تھی آپ کو سکھانے کےلئے آئے اور سینہ کو دبوچا اور کہا “اقراء” اس کے جواب میں آپ نے فرمایا ” میں پڑھنا نہیں جانتا” مدارس اسلام کے قلعے ہیں ہیں جہاں گلستان نبوی کے نونہالوں کو دین کی باتیں سکھائی اور پڑھائی جاتی ہیں ان بچوں کے مستقبل تابناک ہو،مگر افسوس مدارس کے ذمہ داران کی توجہ تعلیمی میدان میں محنت کم کرتے نظر آرہے ہیں اور بچے مدارس سے دور بھاگتے دکھ رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب ء آسان اسلوب میں اسباب وعلاج پر خطاب کیاجو نہایت خوب کے ساتھ مفید ترتھا آپ نے موضوع کو کما حقہ ادا کرنے کی کوشش کی۔
فضیلۃ الشیخ سعود اخترعبدالمنان سلفی حفظہ اللہ (استاذ جامعہ سراج العلوم السلفیہ، و معاون مدیر ماہنامہ السراج جھنڈا نگر، نیپال) نے “منشیات اور اس کے مظر اثرات” کے موضوع پر موثر خطاب دیاانہوں نے نوجوان نسل کو مخاطب کرکے کہا کہ نشہ آور چیزیں اسلام نے حرام کر رکھی ہیں،نشہ آور مواد چاہے تھوڑاہویازیادہ سب حرام ہے،نشہ کا مطلب یہ کہ جس چیز کے استعمال سے عقل پر پردہ پڑھائے اسکو اسلام نے حرام قرار دیاہے ، “الخمر ماخامرالعقل” اسی سے خمار (دوپٹہ)بھی ہے کیونکہ وہ سرکوڈھانپ لیتی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل نشہ خوری ،نشہ آور ٹیبلٹس،مادے استعمال کرکے جس تباہی کے دروازے تک پہنچ چکی ہے اس سے صالح معاشرہ کی تشکیل کا خواب چکنا چور دکھائی پڑرہاہے،نشہ آور چیزیں کسی بھی صورت میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے اس سے جہاں صحت میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے وہیں موجودہ دور کے بڑے بڑے امراض بھی اپنے گرفت میں لیتی ہے جس کا علاج ممکن نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ ابو البیان رفعت سلفی حفظہ اللہ(داعی اسلامک انفارمیشن سینٹر، ممبئی) نے “خوشگوار زندگی کے رہنما اصول” موضوع پر پر مغز باتیں بتائیںخوشگوار زندگی گزارنے کے اصولوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ ان اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کو نیک اعمال کرنا چاہئے۔ نیک اعمال کرنا، مرد ہو یا عورت، اور ایمان والا ہونا، ایک خوشگوار زندگی کا سبب بنتا ہے۔اگر انسان خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو وہ اسے پاکیزہ اور خوشگوار زندگی عطا فرماتاہے،لہذا اگر خوشگواررہناچاہتے ہیں تو آپ کو اپنی خلقت کا مقصد سمجھتے ہوئے اسوہ نبوی پر عمل کرنا ہوگا تبھی آپ کی دنیوی اور اخروی زندگی خوش گوار ہوسکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عطاء الرحمن مدنی (استاذ جامعہ عالیہ عربیہ، مئو) کو دعوت اسٹیج دیا گیا جنھوں نے “اولاد پر والدین کے حقوق” موضوع پر پر زور بیان دیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اولاد کا والدین پر حقوق اسلام میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ قرآن و حدیث میں والدین کی اطاعت اور احترام پر زور دیا گیا ہے۔ اولاد کے والدین پر حقوق میں شامل ہیں:
اطاعت:قرآن میں والدین کی اطاعت کو توحید کے بعد سب سے اہم حکم قرار دیا گیا ہے. اولاد کو والدین کی اطاعت کرنی چاہیے، جب تک کہ وہ کسی ناجائز حکم نہ دیں۔احترام:والدین کی عزت و احترام کرنا چاہیے۔ انہیں سختی سے بات نہیں کرنی چاہیے اور ان کی بات کو قبول کرنا چاہیے۔ خدمت:والدین کی خدمت کرنا چاہیے۔ ان کی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔دعائیں:والدین کے لیے دعائیں کرنا چاہیے۔ اللہ سے ان کی صحت اور خوشحالی کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔نیکی:والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرنا چاہیے۔ ان کی خوشی کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کی ناراضی سے بچنا چاہیے۔
علماء کرام کے خطابات کے معا بعد علاقے کے متحرک داعی اور اس پروگرام کے روح رواں اور نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن فضیلۃ الشیخ پرویز عالم ریاضی نےصدارتی کلمات پیش کی اور پروگرام کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی۔
اجلاس کے اختتام سے قبل پروگرام کے کنوینر حافظ محمد اظہر عبداللطیف عثمانی (متعلم جامعہ عالیہ عربیہ مئو) نے جملہ مشارکین کے لیے ہدیہ تشکر پیش کیا اور یکے بعد دیگرے تمام خطباء و شعراء کی تکریم کے لیے مومنٹو اور علمی تحفہ دیا۔ اللہ تعالی کا شکر و احسان رہا کہ جسکی توفیق سے نوجوانوں کا یہ اجلاس عام کامیاب رہا اور سامعین نے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا۔
پروگرام کے کنوینر حافظ محمد اظہر عبداللطیف عثمانی نے اپنے رفقاء نعیم الرحمن سنابلی، مشتاق ساحل سلفی، اشفاق احمد ، سراج احمد ،انس پرویز، اظہار احمد ،ارشاد احمد سرفراز احمد ، محمد صادق ، سمیع الرحمن ،عبد الصمد، عبد الرب عزیز الرحمان وغیرھم کے ساتھ مل کر پروگرام کو بہتر سے بہتر بنانے کی ہرممکن کوشش کی۔