
پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
اس کرہ ارضی پر موجود مملکت سعودی عرب ہمیشہ سے بلا تفریق رنگ ونسل، مذہب و ملت اور افکار و نظریات خدمت انسانی کا علمبردار ملک رہا ہے۔ حال میں مسئلہ فلسطین کے موضوع پر نیو یارک، امریکہ میں منعقد ہونے والی کا نفرنس میں سعودی وزیر خارجہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ خطے میں امن و سلامتی، بقاء باہم، یک جہتی و خیر سگالی اور جملہ ترقیات کا انحصار اسی پر ہے کہ باشندگان فلسطین کو ان کے تمام تر جائز حقوق فراہم کئے جائیں اور باشندگان فلسطین کا اولین حق یہ ہے کہ 1967 کی حدود کے مطابق ان کی آزاد ریاست کا قیام عمل میں آئے جس کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
مملکت سعودی عرب نے بلا خود و خطر ریاست کہ قیام کی نہ صرف ترجمانی کی ہے بلکہ کئی مضبوط ممالک کو اعتماد میں بھی لیا ہے لیکن افسوس اسرائیل کی ہٹ دھرمی، عالمی برادری میں سے اکثریت کے منافقانہ رویے پر ہے کہ متعدد سیمینار، کانفرنسوں کے انعقاد اور مذاکرات کے باوجود مسئلہ فلسطین پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ ہر زمانے میں میر جعفر اور میر صادق رہے ہیں، نفاق اور بدعات کا ظہور ہوا ہے، مسلمانوں کے داخلی و خارجی دشمن پیدا ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے جنہوں نے ہمیشہ سے اسلام کے ماننے والوں اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے والوں کو ترچھی نظروں سے دیکھا ہے اور اپنی ناپاک عزائم سے اہل اسلام کو خاک میں ملانے کی کوششیں کیں ہیں اللہ غارت کرے ایسے ملعونوں کو جو روافض اور خوارج کی شکل میں موجود رہ کر اسلام کو کھوکھلا اور اسلامی تعلیمات کو نیست ونابود کرنے کی سو جتن کرتے ہیں جس کی ایک اہم کڑی مسئلہ فلسطین میں پر امن حل کی تائید ملک شام کی تباہی کا نہ صرف سبب ہیں بلکہ وہاں کے امن و امان کو غارت کرنے والوں کی تائید و توثیق کرتے ہیں۔
اللہ جزائے خیر دے مملکت سعودی عرب کے حکمرانوں کو جنہوں نے ہمیشہ سے فلسطینی مسئلہ پر ڈٹ کر پوری جرأت اور تندہی سے اہل فلسطین کی حمایت کی ہے اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اپنے موقف کو دہرایا ہے اور آزاد فلسطینی ریاست کی طلب کا ببانگ دہل اعلان فرمایا ہے۔ یہ ایک انتہائی تاریخی اقدام ہے جس کی ہر گام ستائش ہونی چاہئے اور اس طرح کے مخلص اور انسانیت نواز حکمرانوں کی صحت و عافیت اور ان کی بقاء اور تعمیر وترقی نیز فلاح و بہبود کے لئے ہر غیرت مند اور باحمیت مسلمانوں کو دعائے خیر کرنی چاہئے۔ رب العالمین تو پوری دنیا کے حکمرانوں کو فلسطینی مسئلہ میں سعودی حکومت کی پالیسیوں کی تائید و حمایت اور توثیق کی توفیق دے۔ آمین