حسب روایت سابقہ مورخہ 9/ اگست بروز سنیچر بعد نماز عشاء مرکزی جمیعت اہل حدیث نیپال کے پلیٹ فارم سے علمی محاضرہ کا انعقاد عمل میں آیا، اس علمی محاضرہ کے لیے مشرقی چمپارن کی معروف بستی موضع سسوا موتیہاری، بہار کے ایک کامیاب قلمکار اور صحافی شیخ عابد جمال سلفی حفظہ اللہ کو مکلف کیا گیا۔ محاضرہ کا آغاز عزیزم عبدالعزیز عمری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، بعدہ محاضر موصوف تشریف لائے، اور مرکزی جمعیت کی جانب سے دئے گئے موضوع *”بدامنی کے خاتمے میں اسلام کا کردار”* پر انتہائی خوبصورتی کے ساتھ اپنے محاضرہ کا آغاز کیا، تمہیدی گفتگو میں بتایا کہ “انسانی معاشرہ تب ہی خوشحال ہو سکتا ہے جب امن قائم ہو۔ بدامنی کی فضا میں نہ معیشت پنپتی ہے، نہ تعلیم ترقی کرتی ہے، اور نہ ہی لوگ دین پر سکون سے عمل کر پاتے ہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، عدل اور بھائی چارے کو اپنی بنیاد بناتا ہے۔ بدامنی ختم کرنے کے لیے اسلام نے ایسے اصول اور قوانین دئے ہیں جو آج بھی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔” ساتھ ہی بدامنی کی تعریف اور اسباب بتاتے ہوئے فرمایا کہ “بدامنی وہ کیفیت ہے جس میں:جان و مال غیر محفوظ ہوں،خوف و ہراس کا ماحول ہو، ظلم اور فساد عام ہو،” پہر آپ نے بدامنی کے درجہ ذیل چند اسباب کا تذکرہ فرمایا:
*عدل و انصاف کا فقدان *غربت اور معاشی کی ناہمواری *اخلاقی زوال
*تفرقہ اور تعصب *قانون کی کمزوری یا نا انصافی
پہر بدامنی کے خاتمے کے درج ذیل اسلامی رہنما اصول کا ذکر فرمایا
1ـ عدل و انصاف کا قیام 2. جان و مال کا تحفظ 3. معاشی عدل 4. اخلاقی تربیت 5. مجرموں کے لیے سزا کا نظام۔ اخیر میں آپ نے خلاصہ کے طور پہ بتایا کہ “اسلام بدامنی کے خاتمے کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے، جو عدل، امن، اور بھائی چارے پر قائم ہے۔ اگر ان اصولوں پر عمل کیا جائے تو نہ صرف مسلمان ممالک بلکہ پوری دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے”۔
ماشاءاللہ محاضر موصوف کے مستند، مدلل اور دل پذیر بیان کے بعد تاثراتی دورکا اغاز ہوا، اس دور میں ہندو نیپال کے چیدہ چیدہ مشائخ نے اپنی قیمتی تاثرات سے سامعین و حاضرین کو نوازا، جن میں سر فہرست شیخ محترم مولانا شوکت محمود سراجی حفظہ اللہ تھے، انہوں نے اپنے تأثراتی پیغام کے آغاز میں جمعیت کے تمام نشاطات کی ادائیگی پر ارباب جمعیت کو مبارکباد دی اور کہا کہ” جمعیت کے تمام کاموں میں اور نشاطات میں یہ کام جو آپ لوگ کر رہے ہیں انتہائی اہم ہے، اسے کبھی رکنا نہیں چاہیے، پھر آپ نے موضوع کی مناسبت سے بہت ساری مثالوں کے ذریعہ انتہائی اختصار کے ساتھ جامع تأثرات پیش کرکے سامعین و حاضرین کو مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا، آپ کے بعد ملک نیپال کی عظیم شخصیت ڈاکٹر شہاب الدین مدنی حفظہ اللہ ریکٹر جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر تشریف لائے اور انہوں نے بھی اپنے قیمتی تاثرات سے سامعین کو نوازا، آپ نے قیام امن کئی کئ مثالیں دی، جنگ بدر اور ریاست مدینہ، بنو قریضہ اور قینقاع کی مثالیں دی، اور آپ نے انتہائی مدلل انداز میں اپنی گفتگو رکھا، بعدہ استاد الاساتذہ فضیلتہ الشیخ جناب مولانا مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی حفظہ اللہ سینیر استاذ جامعہ اسلامیہ سنابل دھلی تشریف لائے اور قیام امن کی سلسلے میں انتہائی مفید باتیں کی، اور قران و حدیث سے کئی دلیلیں دیں، اور بتایا کہ اس وقت پوری دنیا بدامنی کا شکار ہے، اور قیام امن کا واحد حل اسلامی تعلیمات میں مضمر ہے۔ بعدہ شیخ ہاشم بشیر مدنی استاذ جامعہ ابن تیمیہ چندن بارہ بہار نے اپنا قیمتی تاثرات پیش کیا ذمہ داران کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی جماعتی خدمات کو سراہا اور آئندہ بھی اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کا مشورہ دیا۔
اخیر میں جماعت اہل حدیث کے انتہائی مؤقر اور محترم علمی شخصیت شیخ پرویز یعقوب مدنی حفظہ اللہ استاد جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر نیپال تشریف لائے اور انہوں نے انتہائی وقیع اور مفید گفتگو کی، آپ نے بدامنی اور قیام امن کی کئی مثالیں دی، جن میں انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے چچا ابو طالب کو اسلام کی دعوت دینا یہ بھی قیام عمل کی ایک بڑی دلیل ہے، اور اسی طریقے سے آپ نے ایک آیت ” الذين آمنو و لم یلبسوا إيمانهم بظلم اولئك لھم الأمن وهم مهتدون” کی تفسیر اور تشریح بھی کی، ساتھ ہی آپ نے جمیعت کے اس کارکردگی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کی ہمہ جہت ذمہ داریوں میں سے یہ ذمہ داری بہت اہم ہے، اور جمیعت کا قیام بھی اسی مقصد سے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ اس پلیٹ فارم سے دعوت کا زیادہ سے زیادہ کام ہو، شبہات کا ازالہ ہو ،توحید کی آبیاری ہو، اور لوگوں کو کتاب و سنت سے قریب تر کیا جائے۔ آخر میں شیخ محترم حافظ انظار الاسلام مدنی حفظہ اللہ نائب ناظم مرکزی جمعیت الحدیث نیپال نے تمام حاضرین و سامعین، محاضر اور تمام ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس پورے پروگرام میں ڈاکٹر محمد اورنگ زیب تیمی ناظم عمومي مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال انتہائی خوبصورتی کے ساتھ نظامت کا فریضہ انجام دیتے رہے، اخیر میں بلبل نیپال شیخ محترم مولانا محمد نسیم محمد یونس مدنی حفظہ اللہ نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے اپنے صدارتی خطاب اور دعائیہ کلمات سے مجلس کے اختتام کا اعلان فرمایا۔ اور یہ علمی پروگرام انتہائی خوبصورتی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہونچا۔