
45/واں بین الاقوامی مسابقہ شاہ عبدالعزیز برائے حفظ وتلاوت قرآن کریم وحدت امت کا حسین امتزاج کا مظہر
پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
بفضلہ تعالیٰ مملکت سعودی عرب کی جانب سے 45/واں بین الاقوامی مسابقہ مکہ مکرمہ کی مقدس سر زمین پر منعقد ہو رہا ہے اس علمی و روحانی اجتماع میں پوری دنیا کے 128/ ملکوں کے ممتاز اور منتخب طلبہ شرکت کر رہے ہیں، یہ عظیم الشان اور پر وقار علمی مسابقہ مملکت سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود – حفظہ اللہ – کی سرپرستی میں بروز ہفتہ 15 صفر 1447ھ، بمطابق 9/ اگست 2025ء، مسجد الحرام مکۃ المکرمۃ میں شروع ہو کر کل 6/ دنوں تک جاری رہے گا، معلوم رہے کہ سن 1399ھ کے آغاز سے لیکر اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے جو خانہء کعبہ کے اس روح پرور اجتماع میں شرکت فرما رہے ہیں، جو اس مقابلے کی مقبولیت اور مملکت سعودی عرب کی پوری دنیا کے مسلمانوں اور طلبہ کی عظیم خدمت اور کتاب اللہ کے تئیں بے لوث محبت کی دلیل اور کلید ہے۔
وزارت اسلامی کے باوقار وزیر ڈاکٹر عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ نے اس مسابقہ کے عظیم الشان افتتاحی تقریب میں بنفس نفیس شرکت فرماکر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظه الله اور ولی عہد محمد بن سلمان حفظہ اللہ کا صمیم قلب سے انتہائی خلوص و محبت سے نہ صرف شکریہ ادا کیا۔ بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے تئیں ہونے والے اس خدمت کو خوب سراہا اور مملکت سعودی عرب کے بے لوث حکمرانوں کی خدمت میں دعاؤں کا نذرانہ پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ “یہ مقابلہ نہ صرف اہلِ قرآن کے لیے ایک اعزاز ہے بلکہ مملکتِ سعودی عرب کی اُس عظیم پالیسی کا عملی مظہر ہے جس کے تحت قرآن و سنت کی خدمت کو بنیادی ترجیح حاصل ہے”۔
مزید فرمایا کہ “یہ عالمی مسابقتی محفل مملکت کے اس کردار کو اجاگر کرتی ہے جو امتِ مسلمہ کو قرآن کی روشنی میں اتحاد، اعتدال اور وسطیت کے پیغام پر جمع کرنے میں پیش پیش ہے، اور فکری و فتنہ پرور انحرافات کے تدارک میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے نیز یہ مقابلہ محض ایک اعزاز یا انعامی تقریب نہیں، بلکہ ایک عالمی پیغام ہے کہ قرآن کریم ہی مسلمانوں کی اصل وحدت اور عزت کا سرچشمہ ہے۔ دنیا کے اطراف و اکناف سے آنے والے حفاظ و قراء مسجد الحرام کے مقدس ماحول میں تلاوت و ترتیل کے ذریعے نہ صرف اپنی فنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ قرآن کی لازوال تعلیمات کو اپنے دلوں میں تازہ کرتے ہیں” ۔
یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ یہ بین الاقوامی مسابقہ اب ایک ایسا علمی و روحانی مینار بن چکا ہے، جس کی روشنی دنیا کے ہر گوشے میں قرآن و ایمان کی خوشبو بکھیر رہی ہے۔ مملکتِ سعودی عرب کی یہ خدمت امتِ مسلمہ کی دینی، فکری اور اخلاقی رہنمائی کا ایک ایسا باب ہے جو تا قیامت یادگار رہے گا۔ ان شاء اللہ
رب کریم تو مملکت سعودی عرب حاسدین کے شر سے بچا اور سعودی عرب کے باعزم اور معزز حکام، موقر علماء کرام، محترم باشندگان کی ہر گام شروع و فتن سے حفاظت فرماکر قرآن و سنت کی خدمت کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق ارزانی نصیب فرما۔ آمین