
پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ رب العالمین نے تمام انسانوں کے دلوں میں محبت کو ودیعت کردی ہے ، چاہے وہ اللہ رب العالمین سے محبت ہو یا دین اسلام اور اسلامی تعلیمات سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو یا آپ کے اصحاب سے یا انسانوں کی محبت انسان سے ہو یا حیوان سے سبھی کا ایک دائرہ ہے اور انسان کو اپنی حد میں رہ کر اپنی محبت کا اظہار کرنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات محترم ہے، آپ رحمة للعالمين اور شفیع المذنبین ہیں، آپ کا مقام و مرتبہ نہایت بلند ہے، نبیوں کی امامت کا شرف آپ کو حاصل ہے، آپ کی تابعداری اور آپ سے محبت کو باری تعالیٰ نے لازم قرار دیا ہے اور یہ مرد مومن پر فرض اور جزو ایمان ہے۔
رب ذوالجلال عز و جل کا ارشاد ہے: “قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْم” ۔ (آل عمران: ٢١)
ترجمہ : اے نبی آپ کہہ دیں کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہو جاؤ اللہ بھی تم سے الفت رکھے گا اور وہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ بخشنے والا بڑا مہربان ہے.
ایک دوسرے مقام پر اللہ کا فرمان ہے: “مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ”. (النساء : ٨٠)
ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا گویا اس نے اللہ کا حکم مانا.
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے : “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ” ۔(سورہ محمد:33)
ترجمہ : اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میر ی امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا انکار کس نے کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس نے انکار کیا ۔(صحیح بخاری :7280)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے لیکن موجودہ دور میں بہت سارے افراد نے محبت رسول کے نام پر ایسی ایسی بدعتیں ایجاد کر رکھی ہیں جن کا کتاب وسنت سے ادنی بھی تعلق نہیں ہے۔ ذیل میں ایک قبیح بدعت عید میلاد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
*عید میلاد کا موجد*
اس بدعت کی ایجاد چوتھی صدی ہجری یعنی فاطمی دور 362 ھ تا 567 ھ کے درمیان ہوئی، جناب حافظ سیوطی رحمہ اللہ (٨٤٩۔ ٩١١ھ) فرماتے ہیں : وَأَوَّلُ مَنْ أَحْدَثَ فِعْلَ ذٰلِکَ صَاحِبُ أَرْبَلَ الْمَلِکُ الْمُظَفَّرُ أَبُو سَعِیدٍ کَوْکَبْرِيٌّ ۔
”سب سے پہلے جس نے اسے ایجاد کیا وہ اربل کا بادشاہ مظفر ابوسعید کوکبری تھا۔”
(الحاوي للفتاوي للسیوطي : ١/١٨٩ [٢٤] )
مشہور حنفی عالم دین مولانا رشید احمد گنگوہی لکهتے ہیں کہ اہل تاریخ نے صراحت کی ہے کہ یہ بادشاہ بهانڈؤں گانے والوں کو جمع کرتا گانے آلات سے گانا سنتا اور خود ناچتا۔ (فتوی رشیدیه صفحہ 123)
جناب عبد السمیع رامپوری بریلوی لکھتے ہیں :
”یہ سامان فرحت و سرور اور وہ بھی مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ اور اس میں خاص وہی بارہواں دن میلاد شریف کا معین کرنا بعد میں ہوا یعنی چھٹی صدی کے آخر میں۔” (انوارِ ساطعہ : ١٥٩)
امام احمد بصری رحمہ اللہ لکهتے هیں: چاروں مذاہب کے علماء عید میلاد منانے اور اس میں شامل ہو نے کی برائی پر اتفاق کر لیا ہے۔
(حوالہ تاریخ میلاد صفحہ 115)
امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ ’’ قَدْ عُلِمَ أَنَّ جُمْهُورَ الْأُمَّةِ تَطْعَنُ فِي نَسَبِهِمْ وَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ مِنْ أَوْلَادِ الْمَجُوسِ أَوْ الْيَهُودِ ‘‘جہمور امت نے فاطمیوں کو مجوسیوں یا یہودیوں کی اولاد قرار دیتے ہوئے اس بات کی گواہی دی ہے کہ یہ لوگ سیدہ فاطمہ کی نسل سے نہ تھے اور اس بات کی گواہی اس دور کے تمام حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ، اہل حدیث اور اہل کلام کے علماء اور نسب کے ماہرین عوام وخواص سب دیتے ہیں۔ (فتاوی ابن تیمیہ: 35/128)
سطور بالا سے واضح ہوا کہ اسلام کی دونوں مشہور عیدوں (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کے سوا یہ تیسری عید بدعت ہے۔
*نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش اور وفات:*
اکثر اہل علم، مؤرخین اور سیرت نگاروں کے قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی وفات ۱۲/ربیع الاول، بروز سوموار، گیارہ ہجری کو ہوئی، جب کہ ولادت ۸ یا ۹/ربیع الاول کو ہوئی۔ (السیرالنبویہ، توقیتی مطالعہ، از پروفیسر ظفر احمد)
شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دس محرم کو ہوئی ہے۔”(غنیۃ الطّالبین : ٢/٣٩٢،طبع بیروت)
تاہم اگر ۱۲/ربیع الاول ہی کو آپﷺ کا یوم ولادت تسلیم کرلیا جائے تو ظاہر ہے یہی دن آپﷺ کی وفات کا بھی ہے۔ جیسا کہ بریلوی جماعت کے سرخیل جناب احمد رضا خاں بریلوی لکھتے ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ١٢/ربیع الاول دو شنبہ کو ہے اور اسی میں وفات شریف ہے ۔” (ملفوظات : ٢/٢٢٠)
اس اعتبار سے ذرا سوچئے! کہ کیا نبیﷺ کی وفات والے دن ’’جشن‘‘ منانا صحیح ہے؟ ۔
آج سے تین چار دہائیوں پہلے ۱۲/ ربیع الاول کا دن’’بارہ فات‘‘ کے نام سے ہی منایا جاتا تھا۔
لیکن آج بعض نام نہاد مسلمانوں نے اس ١٢/ وفات کو بدل کر ١٢/ یوم ولادت باسعادت تسلیم کرکے اس بدترین بدعت کو فروغ دیا اور ١٢/ ربیع الاول کو طوائفوں کے ناچنے، ٹھمکے لگانے، نام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بنے ہوئے کیک پر چھری چلا کر نام مبارک کو کاٹنے، جلوس نکالنے کو محبت رسول سے تعبیر کر رکھا ہے جو کہ سراسر بدعت ہے۔ قرآن و سنت میں اس قبیح بدعت کے متعلق کوئی دلیل نہیں ہے حتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی کبھی بھی نہ خود اپنا اور نہ ہی اپنی آل و اولاد کا برتھ ڈے منایا نہ ہی آپ کی ازواج مطہرات نے نہ صحابہ کرام کی مقدس جماعت نے نہ تابعین اور تبع تابعین نے۔
باری تعالیٰ ہمیں اس بدعت سے مامون و محفوظ رکھے اور معاشرے کے لوگوں عقل سلیم اور فہم صحیح بخشے۔ آمین