الحمد اللہ، خداوند متعال کا شکر ہے کہ تیسرا آل نیپال مسابقۂ حفظ قرآن کریم دوبارہ منعقد ہونے جا رہا ہے جو کہ ایسے وقت میں قرآنی بیداری اور نوجوان نسل کے دینی جذبہ کو تقویت دینے کا غماز ہے۔ یہ عظیم الشان مسابقہ یقینا امن و دعوت کا حصہ ہے جس میں خاص طور پر ذکر کیا جانا چاہیے کہ مملکت سعودی عرب نے ہمیشہ قرآن مجید کی خدمت و اشاعت میں گرانقدر کردار ادا کیا ہے۔ حفاظ کی تربیت، قرآنی طباعت، بین الاقوامی تنظيمات اور ایسے مواقع کے انعقاد کے ذریعے مملکت نے عظمت قرآنی کو اجاگر کیا ہے۔
یہ مبارک موقع ہماری نسل نو کے لیے خاص طور پر باعث افتخار ہے کہ وہ قرآن کریم کو نہ صرف حفظ کریں بلکہ اس کے چراغ سے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو منور کریں۔ قرآن کی عظمت کا اندازہ صرف اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کی طرف سے ملنے والی ہدایت، سکون اور رہنمائی سے ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ”۔
اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ”۔

تیسرا آل نیپال مسابقۂ حفظ قرآن کریم نہ صرف ایک مسابقہ ہے بلکہ ایک دعوت ہے: نوجوانوں کو، مدارس کو اور طلبہ و طالبات کو کہ وہ اس فیض عظیم میں حصہ لیں، قرآن پاک سے اپنا رشتہ گہرا کریں اور اس کا نور اپنے اندر اور اپنے آس پاس پھيلائیں۔

یقینا مملکت سعودی عرب، سفارت خانہ کاٹھمنڈو اور دیگر شرکاء کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کریم کے فروغ میں سرحدیں نہیں ہیں  بلکہ ایک عالمگیر تحریک ہے جس کی شروعات اور مرکز ہر مسلمان کا دل ہو سکتا ہے۔
آخیر دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے، حفظ کرنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس طرح قرآن کی روشنی میں ترقی کرنے والا امت بنائیں۔
آمین۔
*صلاح الدين لیث المدنی*
*مرکز الصفا الاسلامی نیپال*